اکتوبر سے حزب اللہ پر حملے لیے تیاراسرائیلی فوج کو کس نےروکا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر تقریباً روزانہ تصادم کے باوجود حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپیں کافی حد تک کنٹرول میں ہیں۔

لیکن غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حماس کے اچانک حملے کے بعد ابتدائی دنوں میں ایسا ہوتا نظر نہیں آیا جس نے فلسطینی پٹی پر اسرائیل کی پرتشدد جنگ کو جنم دیا۔

اسرائیل کے سابق وزیر اور چیف آف اسٹاف گاڈی آئزن کوٹ نے انکشاف کیا کہ اس نے حماس کے حملے کے بعد کے دنوں میں اسرائیل کو حزب اللہ پر حملہ کرنے سے پہلے سے روکا تھا۔

آئزن کوٹ جس کا سب سے چھوٹا بیٹا گذشتہ ماہ غزہ کی پٹی میں لڑائی میں مارا گیا تھا نے اسرائیل کے چینل 12 کو بتایا کہ اسرائیلی فوج حزب اللہ پر حملےکے لیے تیار تھی حالانکہ مغرب میں دہشت گرد قرار دی گئی حزب اللہ نے ابھی تک اسرائیل پر کوئی بڑا حملہ نہیں کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اسرائیلی جنگی حکومت کے عہدیداروں کو اس اقدام کو ملتوی کرنے پر راضی کیا۔انہوں نے کہا کہ "مجھے یقین ہے کہ وہاں ہماری موجودگی نے اسرائیل کو ایک سنگین سٹریٹیجک غلطی کرنے سے روکا"۔

لبنان-اسرائیل سرحد سے (آرکائیوز - ایسوسی ایٹڈ پریس)
لبنان-اسرائیل سرحد سے (آرکائیوز - ایسوسی ایٹڈ پریس)

قیدیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے آئزن کوٹ نے کہا کہ ’’یرغمالیوں کو بغیر کسی معاہدے کے جلد زندہ واپس کرنا ناممکن ہے‘‘۔

ان کا خیال تھا کہ غزہ میں اب بھی 100 سے زائد قیدی موجود ہیں۔ اس لیے کہ ان کی واپسی کے لیے ایک نیا معاہدہ کرنے کی ضرورت ہے۔

حماس کے رہنماؤں کا قتل

انہوں نے کہا کہ غزہ میں حماس کی طاقت کو چھیننے اور اکتوبر کے حملے کے ذمہ داروں کو ہلاک کرنے کے اسرائیلی جنگی اہداف عارضی جنگ بندی کے بعد "بھی عمل میں رہیں گے"۔

لبنان میں حزب اللہ کے ارکان (اے ایف پی)
لبنان میں حزب اللہ کے ارکان (اے ایف پی)

اپوزیشن پارٹی کے ارکان آئزن کوٹ اور بینی گینٹز جو سابق آرمی چیف آف اسٹاف بھی ہیں 7 اکتوبر کے فوراً بعد وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت میں شامل ہوگئے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر روزانہ فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے لیکن یہ ایک جامع جنگ کی سطح تک نہیں پہنچ سکا۔ اس لڑائی میں لبنان میں حزب اللہ کے 140 سے زائد ارکان اور 3 صحافیوں سمیت کم از کم 190 افراد مارے گئے۔ اس دوران 76 ہزار لبنانی شہروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں