دبئی آر ٹی اے الخیل روڈ پر دو نئے سالک ٹول گیٹس میں سے ایک نصب کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) نے جمعہ کو دو نئے سالک ٹول گیٹس کا اعلان کیا جو نومبر 2024 تک فعال ہو جائیں گے۔

ایک اعلان کے مطابق پہلا گیٹ الخیل روڈ پر بزنس بے کراسنگ پر اور دوسرا الصفا ساؤتھ ٹول گیٹ المیدان اور ام الشیف اسٹریٹ کے درمیان نصب کیا جائے گا۔

شیخ زید روڈ پر متعدد ٹول گیٹس سے بچنے کے لیے الخیل روڈ کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے جس کا نام حال ہی میں برج خلیفہ رکھا گیا تھا۔

الصفا شمالی اور جنوبی دروازے صرف ایک دفعہ گذرنے کا ریکارڈ کریں گے اگر دونوں کو ایک گھنٹے کے اندر عبور کیا جائے۔

ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی نے کہا، "یہ اقدامات آر ٹی اے کی طرف سے دبئی کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کو ہموار کرنے کی ان کوششوں کا حصہ ہیں جو شیخ محمد بن زید روڈ، دبئی - العین روڈ، راس الخور روڈ، اور المنامہ اسٹریٹ جیسی متبادل راہداریوں کی طرف ٹریفک کو تبدیل کر دیں گے۔"

دیگر اہم راستوں پر ٹریفک کم کرنے کے لیے آر ٹی اے نے گاڑی چلانے والوں کو نسبتاً نئے انفینٹی پُل اور الشندغہ سرنگ جیسے دریائی چوراہے کا استعمال کرنے کی سفارش کی ہے۔

آر ٹی اے نئے سالک گیٹ کیوں لگا رہا ہے؟

کیپشن: دبئی میں 4 فروری 2012 کو ایک ہائی وے پر گاڑیاں الیکٹرانک ٹول گیٹ سے گذر رہی ہیں۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)

آر ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل متر الطائر نے کہا، "اس اقدام کا مقصد ٹریفک سروس کی سطح کو برقرار رکھنا، ٹریفک کے حجم کو ایڈجسٹ کرنا اور سڑکوں کے نیٹ ورک اور چوراہوں پر ہجوم کو کنٹرول کرنا ہے۔"

دبئی کی کلیدی شاہراہوں پر ٹول گیٹس ہیں جو بغیر کسی رکاوٹ کے رجسٹرڈ نمبر پلیٹس یا چپس کو پڑھتے ہیں اور جب بھی کوئی گاڑی گیٹ سے گزرتی ہے تو 1.09 ڈالر (4 اماراتی درہم) کاٹتے ہیں۔

بزنس بے کراسنگ گیٹ مبینہ طور پر جبل علی سے ٹریفک کو شیخ محمد بن زید اور ایمریٹس روڈ کی طرف موڑ دے گا۔

آر ٹی اے کو توقع ہے کہ اس طرح ٹریفک کا رخ موڑنے سے الخیل روڈ پر ٹریفک 15 فیصد کم ہو کر 2,053 گاڑیاں فی گھنٹہ اور الرباط سٹریٹ پر ٹریفک 16 فیصد کم ہو کر 1,218 گاڑیاں فی گھنٹہ ہو جائے گی اور عموماً پرہجوم فنانشل سنٹر سٹریٹ میں تقریباً 5 فیصد کمی آئے گی۔ الرباط اسٹریٹ اور راس الخور روڈ کے درمیان الخیل روڈ کے پرہجوم حصے پر کل سفر کا وقت دونوں سمتوں میں روزانہ تقریبا 20,000 گھنٹے کم ہو جائے گا۔

الصفا ساؤتھ گیٹ سے شیخ زید روڈ سے المیدان سٹریٹ تک دائیں مڑنے والی ٹریفک میں 15 فیصد کمی متوقع ہے۔ آر ٹی اے کو یہ بھی یقین ہے کہ یہ المیدان اور الصفا اسٹریٹس سے شیخ زید روڈ تک ٹریفک کی روانی کو 42 فیصد - 1,070 گاڑیاں فی گھنٹہ کم کر دے گا۔

آر ٹی اے نے یہ بھی کہا کہ اس سے فنانشل سینٹر اور لطیفہ بنت حمدان اسٹریٹ کے درمیان شیخ زید روڈ پر ٹریفک کے حجم کو چار فیصد تک کم کرنے اور پہلے الخیل اور العسائل روڈز کے استعمال کو چار فیصد تک بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

دبئی میں کتنے سالک ٹول گیٹ ہیں؟

اس وقت آٹھ ٹول گیٹس کام کر رہے ہیں - البرشہ، الغرہود برج، المکتوم برج (اتوار کے دن اور دوسرے دنوں میں رات 10 بجے سے صبح 6 بجے کے درمیان استعمال کے لیے مفت)، الممزر جنوبئ اور الممزر شمالی (ایک گھنٹے کے اندر دونوں گیٹس سے گزرنے پر ایک بار کٹوتی کی جاتی ہے)، الصفا، ایئرپورٹ ٹنل اور جبل علی۔

الطائر نے کہا، "موجودہ ٹول گیٹس نے دبئی میں سفر کے کل وقت کو سالانہ 60 لاکھ گھنٹے کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، المکتوم اور الغرہود پلوں پر ٹریفک کے حجم میں 26 فیصد کمی، شیخ زید روڈ اور التحاد اسٹریٹ پر سفر کے اوقات میں 24 فیصد کمی، اور بڑے پیمانے پر مسافر بردار نظام (ماس ٹرانزٹ) استعمال کرنے والوں کی تعداد میں سالانہ نو ملین سواریوں کا اضافہ کیا۔"

گذشتہ سال آر ٹی اے نے دبئی فنانشل مارکیٹ میں سالک کمپنی کی لسٹنگ سے 1 بلین جمع کیے اور شہر کی نجکاری میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں شامل ہے۔

2007 میں متعارف کروائے گئے اس سسٹم پر 3.6 ملین سے زیادہ گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں۔ سالک کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس نے 2023 کے پہلے نو مہینوں میں 51.9 فیصد کے منافع کے ساتھ 218 ملین ڈالر (803 ملین اماراتی درہم) کا خالص منافع حاصل کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں