رفح میں لوگوں کا ’سمندر‘ بے گھر لوگوں کا ھجوم نئےشہر کا منظر پیش کرنے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی کے باشندوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں۔ وہ اسرائیلی بمباری سے جان بچا کر رفح کے مقام پر جمع ہو رہے ہیں مگر وہاں پر بڑھتا انسانی ہجوم اور بنیادی سہولیات سے محروم لوگ ایک نئے المیے کا سامنا کرنے لگے ہیں۔

"نیا شہر"

غزہ کے باشندوں نے ایک جنگی طرز کا "نیا شہر" بنایا ہے، جو تا حد نگاہ سفید کمبلوں سے ڈھکا ہوا ہے اور اسے دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔

سیٹلائٹ مناظر نے اس علاقے کے وسیع وعریض رقبے پر رفح کے ارد گرد کھلے علاقوں، فٹ پاتھوں اور عمارتوں کے درمیان خیموں کے شہر کو دیکھا جا سکتا ہے۔

پٹی کے مرکز اور جنوب پر اسرائیلی حملے میں شدت کے بعد غزہ کے باشندے کئی علاقوں سے نقل مکانی کرگئے۔

نجی کمپنی پلانیٹ لیبز کی طرف سے جاری کیے گئے سیٹلائٹس مناظر نے غزہ اور مصر کی سرحد کے ساتھ ایک کھلے علاقے میں خیمہ بستی کی تیزی سے توسیع کو دکھایا جو دسمبر کے اوائل میں خالی تھا۔

’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق نارویجن ریفیوجی کونسل کی کمیونیکیشن ایڈوائزر شائنا لو نے وضاحت کی کہ ان علاقوں کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہیں بجلی، صاف پانی، باتھ رومز اور دیگر بنیادی چیزوں کی کمی کے ساتھ ساتھ رفح تک پہنچنے والی محدود امداد تک رسائی میں دشواری کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی پٹی میں شدید اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 1.9 ملین افراد یا اس غزہ کی پٹی کی 85 فی صد آبادی بے گھر ہوچکی ہے، جن میں سے زیادہ تر رفح کے علاقے میں آگئے ہیں۔

یہ ہجوم اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں سے انخلاء کے احکامات کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ جنوب میں خان یونس، دیر البلح اور وسطی گورنری کے دیگر کیمپوں میں لڑائیاں جاری ہیں۔

میڈیا اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر کے ساتھ ساتھ بہت سے رہائشیوں کے بیانات میں سے رفح کے علاقے میں غیر معمولی رش کی نشاندہی ہوتی ہے۔

لوگوں کا سمندر

قابل ذکر ہے کہ ’اونروا‘ نے انکشاف کیا تھا کہ پلاسٹک کی چادروں سے بنے عارضی ڈھانچے رفح کے جنوب میں گلیوں سمیت ہر سو پھیلے ہوئے ہیں جہاں لوگ سردی اور بارش سے خود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز نے 25 مربع میل کے رقبے پر رفح کیمپوں کی توسیع کو ظاہر کرنے والی تصاویر شائع کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رفح شہر اس قدر بھرا ہوا ہے کہ لوگوں کے سمندر کے درمیان ایک شخص کے لیے گاڑی چلانا تقریباً مشکل ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے رہائشیوں کو رفح سے نقل مکانی کرنے کے احکامات کے باوجود شہر اور غزہ کے دیگر مقامات پر اب بھی بمباری جاری ہے جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں