فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی نئی تمسخر آمیز ویڈیوز، فلسطینی حلقوں میں شدید غم وغصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی پراسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کی تمسخرآمیزحرکات پر مبنی ویڈیوزاس جنگ کے منفی پروپیگنڈے کا حصہ ہے اور آئے روز اس نوعیت کی ویڈیوز اور مناظر سامنے آ رہے ہیں۔

کئی مہینوں سےغزہ کی پٹی میں کھلے محاذوں پرکچھ اسرائیلی فوجیوں کی کارروائیاں اسرائیل کی عسکری اور سیاسی قیادت کے لیے "سر درد" کا باعث بنی ہوئی ہیں۔

غزہ کے رہائشیوں کے گھروں کی تلاشی لینے اور ان کے گھروں میں موجود سامان کی توڑ پھوڑ، دکانوں میں لوٹ مار، یہاں تک کہ بچوں کے کھلونوں کو تباہ کرنے، یا کھانے پینے کا سامان جلانے سے لے کر نسل پرستانہ نعرے لگاتے ہوئے رقص کرنے جیسے ویڈیوز کی سوشل میڈٰا پر پھیلا رہے ہیں‘‘۔

تازہ ترین ویڈیوز میں اسرائیلی خواتین فوجیوں کی غزہ کے ایک علاقے میں تفریح کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیوز گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران پھیلائی گئی ہیں۔

ان ویڈیوز میں انہیں ناچتے، ہذیانی انداز میں اچھل کود کرتے اور فلسطینیوں کے خلاف نفرت پرمبنی گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا ایک اور کلپ بھی وائرل ہو رہا ہے جس میں بہ ظاہرایک فوجی کو ڈریگن کے بھیس میں دکھایا گیا ہے۔ اسے دیکھا جا سکتاہے کہ وہ کھڑے ٹینک سے ایک گولہ داغتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ان حالیہ ویڈیوز نے غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے توہین آمیز اور اشتعال انگیز رویے پر اسرائیلی سیاسی اور عسکری قیادت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جس پر اسرائیلی لیڈرشپ نے شرمندگی کا اظہار بھی کیا مگر اس کے باوجود نفرت پرمبنی توہین آمیز ویڈیوز کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ان ویڈیوز کو انفرادی نوعیت کی سرگرمیاں قرار دے کر ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا عزم کیا تھا۔

لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ یہ کلپس ایک قومی مزاج کی عکاسی کرتے ہیں جو غزہ میں عام شہریوں کی حالت زار کا مذاق اڑانے اور ان کی بے بسی کا تمسخر اڑانے کی دانستہ کوشش ہے۔

اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم بتسلیم کے ترجمان ڈرور سدوت نے کہا کہ "فلسطینیوں سے نفرت اسرائیلی لیڈرشپ سے عام سپاہیوں تک پھیلی ہوئی ہے‘‘۔

غسان الخطیب ایک سابق فلسطینی وزیراورامن مذاکرات کار جو مغربی کنارے کی بیرزیت یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کا مطالعہ کرتے ہیں نے کہا کہ "پہلے دونوں نقطہ نظر کو دیکھنے میں دلچسپی رکھنے والے لوگ تھے، لیکن اب ہر ایک فریق ہے۔ اپنے آپ میں بند ہے اور صرف اپنی کہانی اور اپنی معلومات کو دیکھتا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں