لبنان پر اسرائیلی حملوں سے قبل مشکوک فون کالز میں کیا بات کی جاتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان تین ماہ سے زیادہ عرصہ قبل شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو لبنانی نمبروں اور لبنانی لہجے میں بات کرنے والے لوگوں کی طرف سے عجیب و غریب فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔

دوسری طرف سے بات کرنے والے سروے کرنے، امداد تقسیم کرنے، یا کسی عوامی ادارے سے کال کرنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔

رہائشیوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ قصبے یا گھر پر اسرائیلی حملے سے کچھ دیر قبل فون کرنے والے افراد مختلف خاندانوں کے بارے میں معلومات لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

لبنانی سکیورٹی حکام اور ایران نواز شیعہ گروپ حزب اللہ کو یقین ہے کہ یہ عجیب و غریب کالیں در حقیقت اسرائیلیوں کی طرف سے ہیں۔

پچھلے ہفتے ام حسین جو عمر میں 70 کے عشرے میں ہیں اور اصل میں جنوبی لبنان کے گاؤں خیام کی رہائشی ہیں، کو "بینک" کی طرف سے کال موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ وہ آکر قریبی برانچ میں کچھ رقم لے جائیں۔

لیکن ان کے پوتے حسن شکیر کے مطابق ام حسین کا بینک اکاؤنٹ تک نہیں ہے۔

شکیر نے اے ایف پی کو بتایا، "انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ خیام میں ہیں اور جب انہوں نے کہا کہ وہ بیروت میں ہیں تو کال ختم ہو گئی۔"

پوتے نے بتایا کہ کال ختم ہونے کے تھوڑی دیر بعد اسرائیلی حملے نے گاؤں میں اس کے ساتھ والے گھر کو نشانہ بنایا۔

اسی طرح کے واقعات حالیہ ہفتوں میں پورے جنوبی لبنان میں ہوئے ہیں جہاں سے حزب اللہ نے 7 اکتوبر کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے حماس کی حمایت میں اسرائیل پر روزانہ حملے شروع کیے ہیں۔

نیٹ ورک میں نقب؟

اسرائیل نے جوابی کارروائی میں لبنان کے سرحدی دیہات پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 190 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے کم از کم 141 حزب اللہ کے مزاحمت کار تھے جن کی اس علاقے میں بھاری موجودگی ہے۔

حزب اللہ نے جنوب میں واقع دیہات کے رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ لبنانی نمبروں سے کال کرنے والے لوگوں کو کوئی معلومات فراہم نہ کریں جنہیں وہ پہچانتے نہ ہوں۔

حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا، "دشمن ایسی معلومات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان گھروں میں ہمارے بھائی مزاحمت کاروں کی یقینی موجودگی کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا ہے جنہیں وہ نشانہ بنانا چاہتا ہو۔"

ایک سیکیورٹی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ آرمی انٹیلی جنس اور پولیس ان کالوں کی تفتیش کر رہے ہیں جو ان کے خیال میں اسرائیل سے کی گئیں یعنی لبنان کے مواصلاتی نیٹ ورک شاید اسرائیل کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہے۔

ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر میڈیا کو بتایا کہ اسرائیل اس سے پہلے بھی گھروں میں محصور حزب اللہ کے ارکان کو نشانہ بنانے کے لیے یہ حربہ استعمال کر چکا ہے۔

22 نومبر کو بیت یاہون کے گاؤں میں ایک گھر پر حملہ ہوا جس میں حزب اللہ کے پانچ ارکان کو قتل کیا گیا جن میں حزب اللہ کی پارلیمانی پارٹی کے سربراہ محمد رعد کا بیٹا بھی شامل ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اس حملے سے کچھ دیر پہلے ایک نامعلوم فون کالر نے گھر کی مالک سے پوچھا تھا کہ کیا وہ اور ان کا خاندان گھر پر تھا۔

اسرائیلی فوج کی ایک ترجمان نے ان کالز کے متعلق استفسار پر کہا کہ وہ اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔

حزب اللہ کے مطابق اسرائیل نے سرحدی دیہاتوں میں گھروں اور کاروباری اداروں میں حفاظتی نگرانی کے کیمرے بھی ہیک کر لیے ہیں۔

وائی فائی کے لیے سکیننگ

دسمبر میں حزب اللہ نے کہا کہ اسرائیل اس رسائی کو حزب اللہ کے مزاحمت کاروں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہا تھا اور لبنانی شہریوں پر زور دیا کہ "انٹرنیٹ سے نجی کیمروں کو منقطع کر دیں۔"

حزب اللہ کے مطابق جب گروپ نے سرحد پار حملوں میں "زیادہ تر کیمروں کو نشانہ بنایا" تو اسرائیل نے لبنان میں موجود انٹرنیٹ سے منسلک کیمرے ہیک کر لیے۔

ایک رہائشی جنہوں نے سکیورٹی وجوہات کی بناء پر اپنا نام ظاہر نہیں کیا اے ایف پی کو بتایا کہ حزب اللہ کے ایک مقامی اہلکار نے حال ہی میں انہیں فون کیا اور ان سے ان کے گھر کے ارد گرد نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو بند اور انٹرنیٹ سے منقطع کرنے کا مطالبہ کیا۔ جسے انہوں نے مان لیا۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ تین افراد کو حال ہی میں اسرائیل سے منسلک کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک پر حزب اللہ کے جنوبی بیروت میں موجود گڑھ میں گھروں کے وائی فائی نیٹ ورکس کو اسکین کرنے کا الزام ہے۔

ڈیجیٹل رائٹس گروپ ایس ایم ای ایکس کے عابد کتایا نے کہا کہ لبنان میں شہری مواصلاتی نیٹ ورکس اور سی سی ٹی وی کیمروں کو ہیک کرنا آسان ہے کیونکہ انفراسٹرکچر میں بنیادی حفاظتی اقدامات کا فقدان ہے۔

انہوں نے کہا اسرائیل کی "جاسوسی کی تکنیکوں کی ایک طویل تاریخ ہے" بالخصوص لبنان میں سرحد کے ساتھ جاسوسی غبارے اور مشاہداتی ٹاورز کی تعیناتی بھی رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں