فلسطین اسرائیل تنازع

پہلے غزہ میں جنگ بندی پھر اسرائیل سے تعلقات کی بات : سعودی سفیر ریما بنت بندر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے تعلقات کی راہ میں غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کو رکاوٹ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی سے پہلے اسرائیل کے ساتھ کوئی تعلقات نہیں ہو سکتے۔

اس سے قبل ستمبر 2023 میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ' فاکس نیوز' کو ایک انٹرویو میں کہا تھا 'ہم ہر روز ایک معاہدے کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں'۔ اگرچہ انھوں نے اصرار کیا کہ فلسطین کا مسئلہ ریاض کے لیے بہت اہم ہے۔

اب تقریبا وہی بات امریکہ میں مملکت کی سفیر ریما بنت بندر نے جمعرات کو ڈیووس میں کہی ہے ' سعودی عرب غزہ میں جنگ بندی تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے تاریخی معاہدے کے بارے میں بات چیت نہیں کر سکتا۔'

سعودی سفیر برائے امریکہ کا کہنا تھا "میرے خیال میں سب سے اہم چیز یہ سمجھنا ہے کہ ہماری پالیسی میں اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن کو مرکزیت حاصل نہیں ہے بلکہ مرکزیت امن اور خوشحالی کو حاصل ہے،"

شہزادی ریما بنت بندر نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے ایک پینل کو بتایا۔ ' مملکت بالکل واضح ہے۔ جب زمین پر تشدد ہو رہا ہو اور ہم اگلے دن کے بارے میں بات نہیں کر سکتے۔'

سعودی عرب نے کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی 2020 کے امریکی ثالثی والے ابراہیم معاہدے میں شامل ہوا۔ جبکہ خلیجی ممالک بحرین اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ مراکش نے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم کر لیے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے ہمیشہ سعودی عرب پر بھی یہی قدم اٹھانے پر زور دیا ہے لیکن یہ رفتار 7 اکتوبر کے بعد رک گئی۔ اسرائیل حماس کو تباہ کرنے کا عہد کرتے ہوئے مسلسل بمباری اور زمینی کارروائی کر رہا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اب تک کم از کم 24,620 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 70 فیصد خواتین، بچے اور نوعمر شامل ہیں۔' سعودی عرب مسلسل جنگ بندی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

سعودی سفیر برائے امریکہ نے مزید کہا 'ٹھنڈے سروں کو غالب ہونا چاہیے' اس ہفتے کے شروع میں، ڈیووس میں ہی سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب اب بھی اسرائیل کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے امکانات کے لیے کھلا ہے، لیکن انہوں نے جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں کوئی حقیقی علامت نظر نہیں آرہی ہے جیسا کہ اسرائیل نے دعوی کیا ہے کہ دو طرفہ سٹریٹجک مقاصد قریب آ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں