اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرنے کے لیے حماس کی مالی معاونت کی: یورپی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے جمعے کے روز کہا کہ اسرائیل نے فلسطینی گروپ حماس کی تشکیل کے لیے مالی اعانت فراہم کی تھی۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایسے الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔

اسرائیلی حکومت کے مخالفین اور کچھ عالمی میڈیا نے نیتن یاہو کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ برسوں سے غزہ کے حکمران حماس کو پس پردہ حمایت سے بالخصوص قطر کی مالی امداد کی فراہمی کی اجازت دے کر پھلنے پھولنے کا موقع دے رہے ہیں۔

بوریل نے سپین کی ویلاڈولڈ یونیورسٹی میں تفصیل سے بات کیے بغیر ایک تقریر میں کہا، "جی ہاں، حماس کو اسرائیل کی حکومت نے الفتح کے زیرِ قیادت فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش میں مالی امداد فراہم کی تھی۔"

بوریل نے مزید کہا واحد پر امن حل میں فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم صرف اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ بیرونی مسلط کردہ دو ریاستی حل امن لائے گا اگرچہ اسرائیل نفی پر اصرار کرتا ہے۔"

حماس نے 7 اکتوبر کو غزہ سے جنوبی اسرائیل پر اچانک حملہ کیا جب اسرائیل کی تاریخ کے خطرناک ترین دن میں 1200 افراد ہلاک اور 240 کے قریب یرغمال بنا لیے گئے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حکومت نے جوابی کارروائی کی جس میں اب تک 24,700 سے زائد فلسطینی جان سے چلے گئے ہیں۔

صدر محمود عباس جو فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سربراہ بھی ہیں، کی قیادت میں فتح تحریک کی وفادار افواج کے ساتھ ایک مختصر خانہ جنگی ہوئی جس کے بعد حماس نے 2007 سے غزہ کی پٹی کو چلایا ہے۔

اسرائیل نے مختلف ممالک بشمول بوریل کے آبائی ملک اسپین پر اس بات پر تنقید کی ہے جسے وہ حماس سے ہمدردی کا اظہار کہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں