امریکہ کے حوثیوں کے تین بحری جہاز شکن میزائلوں کے خلاف حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی فوج نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی افواج نے جمعہ کے روز تین حوثی جہاز شکن میزائلوں کے خلاف حملے کیے جن کا ہدف بحیرۂ احمر میں تھا اور وہ لانچ کرنے کے لیے تیار تھے۔

امریکی سینٹ کام نے ایکس پر کہا، "امریکی افواج نے یمن کے حوثیوں کے زیرِ انتظام علاقوں میں میزائلوں کی نشاندہی کی اور اس بات کا تعین کیا کہ ان سے تجارتی جہازوں اور خطے میں امریکی بحریہ کے جہازوں کے لیے خطرہ تھا۔ امریکی افواج نے بعد ازاں اپنے دفاع میں میزائلوں کو مار گرایا اور تباہ کر دیا۔"

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید کہا کہ یہ واقعہ یمن کے وقت شام 6:45 (1545 جی ایم ٹی) بجے کے قریب پیش آیا جو بحیرۂ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان تازہ ترین ہے جس سے عالمی تجارت متأثر اور سپلائی میں رکاوٹوں کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔

گذشتہ کئی ہفتوں سے بحیرۂ احمر اور اس کے قرب و جوار میں بحری جہازوں پر ایران سے منسلک حوثی ملیشیا کے حملوں نے ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت سست کر دی ہے اور غزہ میں جنگ کے بڑھنے سے بڑی طاقتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

یمن کے سب سے زیادہ آبادی والے حصے پر قابض حوثی باغی کہتے ہیں کہ ان کے حملے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے حملے کے شکار فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ہیں۔

گذشتہ ہفتے سے امریکہ یمن میں حوثی اہداف پر حملے کر رہا ہے اور اس ہفتے اس نے ملیشیا کو "دہشت گرد" گروپوں کی فہرست میں دوبارہ شامل کر دیا ہے۔

صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو کہا کہ فضائی حملے جاری رہیں گے حالانکہ انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ حوثیوں کے حملوں کو نہیں روک پا رہے ہیں۔

تصادم سے حماس کے زیرِ انتظام غزہ سے باہر تنازعہ کے پھیلنے کا خطرہ ہے جہاں مقامی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ 24,000 سے زیادہ لوگ – یا غزہ کی 2.3 ملین آبادی کا 1% سے زیادہ – اسرائیل کے حملے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔

7 اکتوبر کو فلسطینی گروپ کے اسرائیل پر حملوں میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1,200 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد اسرائیل نے حملہ کیا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ حوثی میزائل لانچر جو حملوں کے لیے تیار تھے، جمعے کو امریکی فوج کی طرف سے ان کے خلاف چوتھا حملہ کیا گیا۔

امریکی فوج کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو تادیر امریکی ملکیت والے ٹینکر جہاز پر دو جہاز شکن بیلسٹک میزائل داغے جو جہاز کے قریب پانی سے ٹکرا گئے لیکن اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں