جنسی تشدد اور لوٹ مار، شام میں ملیشیاؤں کے خلاف جرمنی میں مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شمال مغربی شام میں واقع عفرین شہر میں کرد جنگجوؤں کے خلاف 2018 کے اوائل میں ترکیہ کی جانب سے شروع کیے گئے فوجی آپریشن کی سالگرہ کے موقع پر دو غیر سرکاری تنظیموں اور انقرہ کے وفادار اور حمایت یافتہ شامی مسلح گروپوں کے چھ ممکنہ متاثرین نے اعلان کیا کہ انہوں نے جرمن فیڈرل پبلک پراسیکیوشن میں کرد شہریوں کے خلاف ہونے والے جرائم میں تحقیقات کے لیے مقدمہ دائر کیا تھا۔

یہ مقدمہ کیسے آگے بڑھے گا؟

یورپی مرکز برائے آئینی جو انسانی حقوق ایک غیر سرکاری تنظیم ہے۔ اس نے سیرین فار ٹروتھ اینڈ جسٹس کے ساتھ مقدمہ دائر کیا جس میں الزام لگایا کہ ترکی کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیاؤں پر عفرین شہر میں 2018 سے "جرائم" کا ارتکاب کیا گیا جہاں سے تین لاکھ لوگ بے گھر ہوئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد تھے، جسے ترکیہ نے اس وقت "Olive Branch" کا نام دیا تھا۔ اس میں شام کے صدر بشار الاسد کی مخالف نام نہاد "سیرین نیشنل آرمی" نے حصہ لیا تھا۔

سیرینز فار ٹروتھ اینڈ جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بسام الاحمد نے کہا کہ "اس فوجداری مقدمے کا مقصد جرمن حکام کے لیے یہ ہے کہ وہ قابل اعتماد شواہد، شہادتیں ملنے کے بعد انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف منظم تحقیقات کریں۔

انہوں نے وضاحت کی "برلن نے پہلے بھی ’داعش‘، شامی حکومت اور دیگر فریقوں کے جرائم کی ساختی تحقیقات کی تھیں، جسے ہم جرمن حکام سے انقرہ کی حمایت یافتہ گروہوں کی خلاف ورزیوں کے بارے میں دہرانے کی کوشش کرتے ہیں۔"

بسام الاحمد نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو انکشاف کیا کہ "چھ متاثرین مرد اور خواتین ہیں جو انقرہ کی حمایت یافتہ گروہوں کی خلاف ورزیوں کا شکار ہوئے، جن میں گرفتاری، جنسی تشدد اور املاک کی چوری جیسے جرائم شامل تھے‘‘۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ مقدمہ کب تک چلے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں