حماس کے بارے میں بوریل کے بیانات کا مقصد نیتن یاہو پر دباؤ ڈالنا ہے: فلسطینی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی وزیر برائے سماجی ترقی احمد مجدلانی نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے اہلکار جوزپ بوریل کے بیانات کہ اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرنے کے لیے حماس کو مالی امداد فراہم کی تھی دراصل وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر سیاسی راستہ کھولنے کے لیے دباؤ کے ڈالنا ہے۔ تاکہ وہ قبضہ ختم کرنے یا جنگ روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

مجدلانی نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو دیے گئےانٹرویو میں واضح کیا کہ "غزہ میں حماس کے لیے رقم ہمیشہ پرائیویٹ طیاروں کے ذریعے قطر سے اسرائیلی اللد ہوائی اڈے پر منتقل کی جاتی رہی ہے۔یہ کوئی راز کی بات نہیں کیونکہ یہ سارا کام اسرائیل کی نگرانی اور اجازت سے ہوتا تھا۔

مجدلانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اب اس مسئلے کو اٹھانا اسرائیلی رائے عامہ کے سامنے نیتن یاہو کی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے خاص طور پر چونکہ وہ کسی بھی سیاسی حل کو مسترد کرتے ہیں اور دو ریاستی حل کے بھی خلاف ہیں۔

سیاسی اور انتظامی دباؤ

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "جوزف بوریل کے بیانات حماس تحریک کی حمایت اور تقسیم کو فروغ دینے میں اسرائیلی کردار کا سیاسی اور فعال استعمال ہیں۔ اس سے زیادہ اورکچھ کم نہیں"۔

قابل ذکر ہے کہ بوریل نے کل جمعہ کو اسپین کی ویلاڈولڈ یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرنے کے لیے حماس کو فنڈز فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے یہ بات نیتن یاہو کے ان بیانات کے جواب میں کہی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ دو ریاستی حل کو مسترد کرتے ہیں۔

نیتن یاہو اسرائیل میں اپنے مخالفین اور کچھ بین الاقوامی میڈیا کے ان الزامات کی تردید کرتے ہیں کہ ان کی حکومت نے غزہ میں حماس کو مضبوط بنانے کے لیے کئی سال مدد کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں