فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں جنگ کی کہیں مثال نہیں ملتی: غزہ سے واپس آنے والے اطالوی ڈاکٹر کے تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غیر سرکاری تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے ایک ڈاکٹر نے غزہ کی پٹی سے واپسی کے اگلے ہی دن ہسپتالوں میں زخمیوں کی بھرمار، ان کے قریب اسرائیلی بمباری کے واقعات اور چھوٹے اور محصور علاقوں میں شہریوں کی حفاظت میں ناکامی کے بارے میں بات کی۔

جنگی ماحول میں علاج کے ماہر اطالوی ڈاکٹر اینریکو والابرٹا نے قاہرہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وضاحت کی کہ انہوں نے غزہ میں کئی ہفتے گذارے۔ اس علاقے کا دورہ وہ پہلے 2021ء کی جنگ کے دوران کر چکے ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق ویلبرٹا نے 100 دنوں سے زیادہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد اس صورتحال کو "غیر معمولی" قرار دیا جس میں 24,762 افراد کی جانیں گئی۔ ان میں زیادہ تر خواتین اور نابالغ تھے اور ساتھ ہی 62,108 زخمی ہوئے۔

اسرائیلی بمباری میں ٹانگیں کھو دینے والا فلسطینی بچہ۔ رائیٹرز
اسرائیلی بمباری میں ٹانگیں کھو دینے والا فلسطینی بچہ۔ رائیٹرز

اطالوی ڈاکٹر نے وضاحت کی کہ یوکرین میں جس کا وہ روس کے ساتھ جنگ کے آغاز سے ہی دورہ کر رہے ہیں۔ خواتین اور بچوں کو فوری طور پر حفاظت کرنا ممکن تھا، جب کہ غزہ میں یہ ممکن نہیں ہے۔ اس دوران انہوں نےزخمی ہونے والے بڑی تعداد میں بچوں کا علاج کیا۔

سب کچھ تباہ ہو گیا ہے

انہوں نے کہا کہ "آج غزہ میں تقریباً سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم ادویات کی کم از کم مقدار اس بات کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ وہ ختم نہ ہو جائیں جبکہ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی کے 36 ہسپتالوں میں سے صرف 15 جزوی طور پر کام کر رہے ہیں، جب کہ 2.4 ملین لوگوں میں 1.9 ملین بے گھر ہو چکے ہیں۔

اطالوی ڈاکٹرکو وسطی غزہ کی پٹی میں واقع الاقصیٰ شہداء ہسپتال سے اپنی ٹیم کو نکالنے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا گیا جب کہ "اس سے 150 میٹر کے فاصلے پر ایک بمباری ہوئی"۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ بہت زیادہ ضروریات کے پیش نظر عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہے۔بہ مشکل یہ سمندر کا ایک قطرہ ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں