متحدہ عرب امارات کا امریکہ سے غزہ جنگ بندی کی حمایت کرنے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ کی فوری جنگ بندی کی حمایت کرے اور خبردار کیا کہ تین ماہ سے جاری تنازع کے باعث علاقائی تصادم کا خطرہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی سفیر لانا نسیبہ نے نیویارک سے ایک آن لائن انٹرویو میں کہا، "ہمیں اب انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی ضرورت ہے، ہم مزید 100 دن انتظار نہیں کر سکتے۔ خطرات بہت زیادہ ہیں، غزہ کی جنگ واضح طور پر ایک کھلا زخم ہے اور یہ خطے کو عدم استحکام کا شکار کر رہا ہے،" اور مزید کہا کہ امریکہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ گروپ حماس جسے امریکہ اور یورپی یونین نے دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کیا ہوا ہے، نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں اپنے حملے میں 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا اور 240 کو اغوا کر لیا تھا۔

حماس کے زیرِ انتظام صحت کے حکام کے مطابق اسرائیل کی جوابی کارروائی میں غزہ کی 20 لاکھ آبادی میں سے بیشتر بے گھر اور 24,000 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو گئے۔

دسمبر کے وسط میں عالمی بینک نے اندازہ لگایا کہ اسرائیلی بمباری سے غزہ کے 60 فیصد سے زیادہ بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گیا۔

صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اسرائیلی فوجی مہم کو روکنے کا مطالبہ کرنے سے گریز کیا ہے اور دسمبر میں متحدہ عرب امارات کی پیش کردہ اقوامِ متحدہ کی امن تجویز کو بھی ویٹو کر دیا تھا۔

غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے لبنان کے ساتھ اسرائیل کی سرحد پر اسرائیلی افواج اور ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان تقریباً روزانہ تصادم ہوتے رہے ہیں۔

ایران نے پیر کو شمالی عراق میں ایک مبینہ اسرائیلی جاسوسی مرکز پر میزائل حملے کیے ہیں۔ دریں اثناء یمن میں ایرانی مسلح حوثی بحیرۂ احمر میں سامانِ تجارت لے جانے والے مال بردار بحری جہازوں پر حملہ کرکے عالمی تجارت میں خلل پیدا کر رہے ہیں۔ عراق اور شام میں امریکی فوجی مراکز پر ایران سے منسلک گروہوں کے حملے بھی تیز ہو رہے ہیں۔

نسیبہ نے کہا، "اگر مقصد ہمارے خطے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو بڑھانا نہیں ہے تو اسے کیس اسٹڈی کے طور پر بیان کیا جائے گا کہ یہ کیسے نہ کیا جائے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں