اسرائیلی وزیر دفاع نے گولانی بریگیڈ کے ذریعے حکومت گرانے کی دھمکی

جنگی کابینہ میں شدید اختلافات وزیر دفاع نے وزیراعظم آفس پر دھاوا بول دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی جانب سے حماس کے قبضے سے یرغمالیوں کو آزاد نہ کروانے پر اسرائیلی کابینہ میں اختلافات شدت اختیار کرگئے۔

اسرائیلی نیوز ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گلینٹ نے وزیراعظم نیتن یاہو کے آفس پر دھاوا بول دیا اور صورتحال تقریباً ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔

اسرائیلی فوج میں غزہ جنگ کی حکمت عملی پر بھی شدید اختلافات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں 3 کمانڈروں نے کہا کہ حماس کو شکست بھی دیں اور یرغمالی زندہ بھی بچائیں، دونوں کام ایک ساتھ ممکن نہیں، یرغمالیوں کی تیز ترین واپسی کا راستہ سفارتی طریقہ کار ہے۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں ہزاروں افراد نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا اور یرغمالیوں کی رہائی میں ناکامی پر برہم مظاہرین نے نیتن یاہو کو شیطان چہرہ قرار دے دیا۔

متاثرہ خاندانوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو حکومت نے 7 اکتوبر کے روز ہمیں نظرانداز کیا اور اسکے بعد ہر روز ہمیں نظرانداز کر رہی ہے۔

مظاہرین نے اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے بھی الزامات لگائے اور ساتھ ہی مظاہرین نے اسرائیل میں نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال کو بدلنے یا اس کی مزمت کرنے کی طاقت ہمارے پاس ہے اس لیے اس حکومت کو اب واپس گھر جانا پڑے گا۔

’’یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیلی معاہدہ ‘‘

دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہےکہ اسرائیل 100 روز بعد بھی بزور طاقت یرغمالیوں کو رہا کرانے میں ناکام رہا ہے، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل کو معاہدہ کرنا پڑے گا۔

حماس رہنما موسیٰ ابو مرزوق کا روسی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا اسرائیل معاہدے کے ذریعے اپنے یرغمالیوں کو واپس لےگا یا ان کی لاشیں وصول کرے گا۔

واضح رہے سات اکتوبر سے اب تک فلسطین شہدا کی تعداد 25 ہزار تک پہنچ گئی ہے، شہید ہونے والوں میں 70 فیصد خواتین شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں