فلسطین اسرائیل تنازع

حماس نے فلسطینی ریاست کے بارے میں بائیڈن کا تبصرہ مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

حماس کے ایک سینیئر اہلکار نے ہفتے کے روز امریکی صدر جو بائیڈن کا تبصرہ مسترد کر دیا کہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینی ریاست کے قیام پر رضامندی ممکن ہے۔

بائیڈن نے جمعہ کو کہا اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کا فلسطینی ریاست کی کسی شکل پر اتفاق کرنا بدستور ممکن تھا جب دونوں رہنماؤں نے غزہ میں حماس کے ساتھ اسرائیل کی جنگ کے دوران تقریباً ایک ماہ میں پہلی بار فون پر بات کی۔

حماس کے سیاسی بیورو کے رکن عزت الرشق نے ایک بیان میں کہا، "یہ خام خیالی کہ بائیڈن فلسطین کی ریاست اور اس کی خصوصیات کے بارے میں تبلیغ کر رہے ہیں، ہمارے لوگوں کو بیوقوف نہیں بنا سکتیَ۔"

"بائیڈن نسل کشی کی جنگ میں ایک مکمل شریک ہیں اور ہمارے لوگ ان سے کسی خیر کی توقع نہیں رکھتے۔"

بائیڈن نے کال کے بعد کہا، یہ ممکن ہے کہ نیتن یاہو شرقِ اوسط میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کئی عشروں سے اٹھائے گئے دو ریاستی حل کے لیے راضی ہو جائیں۔

بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا، "دو ریاستی حل کی کئی اقسام ہیں۔ بہت سے ممالک ایسے ہیں جو اقوامِ متحدہ کے رکن ہیں جن کی اپنی فوجیں نہیں ہیں۔"

بائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان یہ کال اسرائیلی رہنما کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آئی کہ وہ فلسطینی خودمختاری کی اجازت دینے کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ غزہ میں جنگ ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

نیتن یاہو نے گروپ کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد حماس کو تباہ کرنے اور غزہ کو غیر فوجی بنانے کا عہد کیا ہے اور وہ ایسے منصوبے کے لیے امریکی دباؤ کے خلاف تیزی سے مزاحمت کر رہے ہیں جس میں کسی بھی طرح کی فلسطینی ریاست شامل ہو۔

سرکاری اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی تعداد و شمار کے مطابق حماس کے حملے کے نتیجے میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں