فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں یرغمالیوں کی معلومات دینے پرفلسطینیوں کومالی انعام اور محفوظ مستقبل کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سات اکتوبر 2023ء کو حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد کی تلاش کے لیے اسرائیلی فورسز نے غزہ میں کئی طرح کے حربے استعمال کیے ہیں مگر ابھی تک قیدیوں کی موجودگی کا کوئی ٹھوس سراغ نہیں مل سکا ہے۔

اس حوالے سے اسرائیلی فوج نے گذشتہ دنوں غزہ میں متعدد قبرستانوں میں قبریں بھی اکھاڑ ڈالیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ وہ جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کو تلاش کررہی ہے۔

اسی ضمن میں اسرائیلی فورسز نے غزہ میں پمفلٹس گرائے گئے ہیں جن میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ یرغمالیوں کی تلاش میں مدد کرکے اپنا، اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے ساتھ معقول انعام بھی حاصل کرسکتےہیں۔

قیدیوں کی تلاش کے لیے پمفلٹس

غزہ کی پٹی کے رہائشیوں نے بتایا کہ اسرائیل نے ہفتے کے روز پورے غزہ میں اہداف پر بمباری کی، جب کہ اس کے طیاروں نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح کے علاقے پر کتابچے گرائے جن میں وہاں کے بے گھر فلسطینیوں پر زور دیا گیا کہ وہ قیدیوں کی تلاش میں مدد کریں۔

رہائشیوں نے اطلاع دی کہ فلسطینی جنگجوؤں نے شمالی غزہ میں جبالیہ کے علاقے کے مشرقی مضافات میں دوبارہ پیش قدمی کرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکوں کا مقابلہ کیا۔ دوسری جانب اسرائیل نے افواج کو پیچھےہٹانا شروع کر دیا اور چھوٹے پیمانے پر کارروائیاں شروع کیں۔

غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 165 افراد ہلاک اور 280 زخمی ہوئے، جو کہ 2024 میں ایک ہی دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

وزارت صحت نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ 7 اکتوبر کو جنگ کے آغاز سے اب تک 24,927 فلسطینی مارے گئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

سرکاری عبرانی میڈیا کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حراست میں لیے گئے افراد کے اہل خانہ نے بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کو ناقابل اعتبار قرار دیا ہے۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ "نیتن یاہو اور ان کی حکومت پر اعتماد کھو چکے ہیں۔ وہ اپنا کام خود کریں گے" تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

انہوں نے لاپتہ افراد کے ایک رشتہ دار کے حوالے سے مزید کہا کہ ’’مذاکرات میں کسی بھی طرح کی تاخیر ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیر حراست افراد کے درجنوں خاندان شمالی اسرائیل کے شہر قیساریہ گئے تھے اور وہاں نیتن یاہو کے گھر کے سامنے دھرنا دیا تھا۔ وہ رات بھر وہیں رہیں گے۔

اتھارٹی نے انکشاف کیا کہ زیر حراست افراد کے اہل خانہ نے گذشتہ ہفتے مصری انٹیلی جنس حکام سے رابطہ کیا اور ان کے اہل خانہ کی رہائی کے لیے ثالثی کی کوشش پر بات کی۔

انہوں نے ان کے حوالے سے کہا کہ "ہم اپنے کام خود کرنے کے لیے پہل کر رہے ہیں"۔

خیال رہے کہ غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جنگ کے اعلانیہ اہداف میں ایک ہدف غزہ کی پٹی سات اکتوبر کے یرغمالیوں کی تلاش اور ان کی زندہ واپسی بھی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ غزہ میں فلسطینی عسکریت پسندوں کی تحویل میں ابھی تک 130 سے زاید اسرائیلی قیدی موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں