مشرق وسطیٰ

تل ابیب کا گڑھا: اسرائیل کی جنگی کابینہ اہم فیصلے کہاں کرتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور جنگی کونسل کے اراکین گذشتہ 7 اکتوبر سے کئی بار ہنگامی اجلاس منعقد کرچکے ہیں۔ یہ اجلاس ایک ایسی جگہ پر ہوتے ہیں جسے اسرائیلی میڈیا میں "کریاہ" یا " گڑھا" کہا جاتا ہے۔ اس مقام پرغزہ میں جاری جنگ کی تمام تفصیلات، واقعات اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے۔

گڑھا کیا ہے؟

اسرائیلی میڈیا میں غزہ جنگ کی کوریج کرتے ہوئے ’گڑھا‘ یا ’کریاہ‘ کی اصطلاح کا بہ کثرت استعمال کیا جاتا ہے۔

اس اصطلاح کا استعمال وزارت دفاع کے عہدیداروں اور آرمی چیف آف اسٹاف کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے ٹھکانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس دوران میدان جنگ کے حالات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور دستیاب معلومات اور صورتحال کے جائزوں کی بنیاد پر اسٹریٹجک فیصلے کیے جاتے ہیں۔

اسرائیلی ’کریاہ‘ تل ابیب میں اسرائیلی وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر سے کئی منزلوں کی گہرائی میں بنایا گیا ایک ہال ہے، جس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اپنی جنگی کونسل کے ساتھ تقریباً ہر ہفتے تواتر کے ساتھ آتے ہیں۔

یہ تل ابیب کا مرکزی علاقہ ہے اور یہ ایک فوجی اڈے کے شمالی حصے اور سویلین نوعیت کے جنوبی حصے پر مشتمل ہے جو کاپلان اسٹریٹ پر آباد علاقے تک پھیلا ہوا ہے۔

"گڑھا" [کریاہ] وسطی تل ابیب کے ایک علاقے میں ایک خفیہ زیر زمین مقام پر واقع ہے، جس میں تل ابیب ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سینٹر اور مرکزی فوجی بیس ’معسکر رابین‘ جس کا نام اضحاک رابین کے نام پر رکھا گیا ہے قائم ہے۔ یہ اسرائیل کی دفاعی افواج کے پہلے اڈوں میں سے ایک ہے اور اسے 1948ء میں قائم ہونے کے بعد سے آرمی ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

"کریاہ " کے وسیع علاقے میں عام طور پر اسرائیلی حکومت کا ہیڈکوارٹر اور فوج کا مرکزی اڈہ شامل ہے، جس میں وزارت دفاع ، جنرل اسٹاف، آپریشنز روم، فضائیہ اور بحریہ اور دیگر حکومتی دفاترقائم ہیں۔

اس گہرائی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی جنگی کونسل غزہ میں تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے انتظام کے لیے منصوبے تیار کرنے کے لیے میٹنگ کر رہے ہیں۔

شاید حیران کن بات یہ ہے کہ جنگ ہر فیصلہ یروشلم میں واقع نیشنل کرائسز مینجمنٹ سنٹر کے بجائے اس سوراخ سے لیا گیا، حالانکہ یہ سینٹر اعلیٰ ٹیکنالوجیز کے آلات سے لیس ہے۔ یہ جگہ تمام خطرات اور قدرتی آفات جیسے زلزلوں اور فوجی حملوں کے خطرے سے محفوظ ہے یہاں تک کہ ایٹمی حملہ بھی اس جگہ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

اس کے باوجود نیتن یاہو اور ان کی حکومت نے 11 اکتوبر کو غزہ کی پٹی پر جنگ کے لیے اسرائیل کی ہنگامی حکومت اسی زیر زمین جگہ پر تشکیل دی اور جنگ کا اعلان کیا۔

جنگی کونسل

یہ ہنگامی حکومت [وار کیبنٹ] نیتن یاہو اور حزب اختلاف کی پارٹی کے سربراہ بینی گینٹز کے درمیان ایک معاہدے سے وجود میں آئی۔ انہوں نے تین ممبران پر مشتمل جنگی کونسل بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس میں نیتن یاہو، ان کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور اپوزیشن لیڈر بینی گینٹز شامل ہیں۔ سابق چیف آف سٹاف گڈی آئزن کوٹ کو بطور مبصر اس میں شامل کیا گیا ہے۔

’کریاہ‘ کے علاقے میں رابن کیمپ کے آس پاس بہت سے سرکاری اور عسکری اداروں کے مراکز ہیں۔ آپریشن روم کا ہیڈکوارٹر، ڈیپتھ کمانڈ اور وزیر اعظم کا دفتر اسی کے قریب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں