امریکی، مصری اور قطری ثالثی سے غزہ میں جنگ بندی کا مرحلہ وار منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ میں خونریزجنگ کو روکنے کی ایک نئی کوششوں کے ضمن میں امریکا، مصر اور قطر اسرائیل اور حماس دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ایک مرحلہ وار سفارتی منصوبے کا اعلان کریں جو یرغمالیوں کی رہائی سے شروع ہو اور آخری مرحلے میں غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلاء عمل میں لایا جائے۔

تنازع کے کسی بھی فریق نے نئی تجویز کی شرائط پر اتفاق نہیں کیا، جس میں ایسے اقدامات شامل ہیں جو اسرائیل اور حماس کی اعلان کردہ پوزیشنوں سے متصادم قرار دیے جاتے ہیں۔ حماس کے میڈیا ایڈوائزر طاہر النونو نے کہا کہ کوئی حقیقی پیش رفت نہیں ہوئی اور اسرائیلی حکام نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

لیکن مذاکرات سے واقف ذرائع نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ اسرائیل اور حماس کم از کم 30 نومبر کو آخری جنگ بندی کے خاتمے کے بعد ہفتوں کے تعطل کے بعد مذاکرات میں ایک بار پھر شرکت کے لیے تیار ہیں۔

خلاء پر کرنے کی کوشش

اقوام متحدہ کے ترجمان کی طرف سے اعلان کردہ بیان کے مطابق آئندہ دنوں میں قاہرہ میں مذاکرات جاری رہیں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ فریم ورک پر بات چیت کے لیے دونوں فریقین کی رضامندی ایک مثبت قدم تھا، کیونکہ ثالث اب اس خلیج کو پر کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

نئی تجویز میں واشنگٹن، قاہرہ اور دوحا نے حمایت کی ہے۔ یہ تجویز نازعے کو ختم کرنے کے لیے ایک نئے نقطہ نظر کی نمائندگی کرتی ہے اور اس کا مقصد حماس کے ہاتھوں اغوا کیے گئے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو ایک جامع معاہدے کا حصہ بنانا ہے جو جنگ کے خاتمے کا باعث بن سکے۔

نومبر میں جنگ بندی ایک ہفتے تک جاری رہی۔ اس کے ساتھ غزہ میں 100 اسرائیلی یرغمالیوں کے تبادلے کے ساتھ 300 سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

قیدیوں کا تبادلہ

مصری حکام نے کہا کہ اسرائیلی مذاکرات کاروں نے قیدیوں کے تبادلے کی اجازت دینے کے لیے دو ہفتے کے لیے لڑائی بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا جاری رکھا اور ایسے منصوبوں پر بات کرنے سے گریزاں رہے جن میں مستقل جنگ بندی کی شرط رکھی جائے۔

دوسری طرف حماس یرغمالیوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ وہ نہ صرف فلسطینی قیدیوں کی رہائی چاہتی ہے بلکہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے انہیں پتے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

غزہ میں حماس کے رہ نما یحییٰ السنوار کا خیال ہے کہ اسرائیلی میدان جنگ میں یرغمالیوں کو ترجیح دیں گے اور حماس کو اسرائیل کو ختم کرنے اور اس پر بین الاقوامی دباؤ برقرار رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دیر تک کھڑے رہنے کی ضرورت ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ السنوار یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیار ہیں، لیکن وہ پچھلی بار کے مقابلے طویل جنگ بندی اور بہتر حالات چاہتے ہیں۔

حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر اچانک حملے میں 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنایا تھا۔ اس حملے میں اسرائیل کے مطابق تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں