بحیرہ احمر میں کشیدگی قابو سے باہر ہو سکتی ہے: سعودی وزیر خارجہ

فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل سے تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے: شہزادہ فیصل بن فرحان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے حوثیوں کی کارروائیوں اور یمنی گروپ کے خلاف امریکی حملوں کے پس منظر میں بحیرہ احمر میں کشیدگی میں اضافے پرگہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ خیالات سعودی وزیر خارجہ کے اس انٹرویو کا حصہ تھے جو گذشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقد ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ریکارڈ کیا گیا تھا اور اتوار کو سی این این پر نشر ہوا۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے یہ انٹرویو نامور صحافی فرید ذکریا کو دیا۔

ان کا کہا تھا ’’کہ یقیناً ہم بہت فکر مند ہیں، میرا مطلب ہے ہم خطے میں ایک انتہائی مشکل اور خطرناک وقت سے گذر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ہم کشیدگی کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ "بلاشبہ ہم کی آزاد اور محفوظ جہاز رانی پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ یہ ایسی چیز ہے جس کی حفاظت کی جانی چاہیے لیکن ہمیں خطے کی سلامتی اور استحکام کو بھی تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے ہم حالات کو جتنا ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ پرسکون کرنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں‘‘۔

امریکا نے 12 جنوری کو لندن کے تعاون سے پہلے حملے کے بعد سے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف کئی مزید کئی حملے کیے ہیں۔ اس حملے کے بعد حوثی گروپ نے امریکی اور برطانوی مفادات پرحملوں کو جائز اہداف قرار دیا تھا۔

حوثیوں کی جانب سے خطے میں اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کے پس منظر میں خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ امریکہ، جس نے گذشتہ ماہ حوثیوں کے حملوں سے نمٹنے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا تھا بحیرہ احمر میں اس گروپ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسرائیل سے نارملائزیشن

فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل سے معمول کے تعلقات سے متعلق سوال پر شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ’فلسطین کے مسئلے کو حل کیے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آسکتے ہیں۔ یہ واحد راستہ ہے جس سے ہمیں فائدہ ہو گا۔ ہمیں استحکام کی ضرورت ہے اور صرف مسئلہ فلسطین کے حل سے ہی استحکام آئے گا۔‘

شہزادہ فیصل نے کہا کہ خطے کے لیے حقیقی امن اور حقیقی انضمام کو دیکھنے کا واحد راستہ جو مشرق وسطیٰ کو معاشی اور سماجی فوائد فراہم کرتا ہے ’امن کے ذریعے، ایک قابل اعتماد، ناقابل واپسی عمل کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام تک پہنچنا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم اس بات چیت میں شامل ہونے کے لیے نہ صرف سعودی عرب بلکہ عرب دنیا کے طور پر پوری طرح تیار ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اسرائیلی بھی ایسا ہی کریں گے، لیکن یہ فیصلہ ان پر منحصر ہے۔‘ سعودی وزیر نے کہا کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنا بھی سعودی عرب کے لیے قابل توجہ امر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اسرائیلی غزہ اور غزہ کی شہری آبادی کو کچل رہے ہیں۔ یہ مکمل طور پر غیر ضروری ہے، مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اسے روکنا ہوگا۔‘

غزہ کی مقامی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے خطے پر اسرائیل کے حملوں میں 25 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور 62 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں