سیاحوں کی عن قریب نئی منزل بننے والے سعودی غار کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

سعودی عرب کے جیولوجیکل سروے کے سرکاری ترجمان طارق ابا الخیل نے کہا ہے کہ ان کے ادارے نے مدینہ کے شمال مشرق میں آتش فشاں بحرہ خیبر میں ایک نئے ارضیاتی سیاحتی مقام کو سیاحتی منزل کے طور پر متعارف کریا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی جیولوجیکل سروے کی ایک خصوصی جیولوجیکل ٹیم نے سعودی عرب کی سب سے طویل بیسالٹ غار کی دستاویزی شکل میں ریکارٹ مرتب کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس غار کی لمبائی تقریباً پانچ کلومیٹر ہے۔اس کے لیے تکنیکی مطالعات کی تکمیل کے بعد اسے سیاحتی مقام کے لیے نامزد کیا جائے گا۔اس غار کو ابو الوعول کا وہاں موجود پہاڑی بکرے کی شکل کے بڑے بڑے ڈھانچوں کی نسبت سے دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس غار کو سیاحتی دولت سمجھا جاتا ہے جو جیوپارک کے منصوبوں کو فیڈ کرتا ہے۔ اس پراتھارٹی کا جیو ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اس شعبے میں محققین اور ماہرین تعلیم کے لیے ایک وسیع میدان کھولنے میں معاون ثابت ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں