قیدیوں کےاہل خانہ کا اسرائیلی پارلیمنٹ پردھاوا، نیتن یاہو کاحماس پرغیرسنجیدگی کاالزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے میڈیا کی ان قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کے ایک نئے معاہدے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد کے لواحقین کے لیے حماس نے کوئی سنجیدہ تجویز پیش نہیں کی۔

وزیر اعظم کے دفتر نے نیتن یاہو کے حوالے سے یرغمالی رشتہ داروں کے ایک گروپ سے کہا کہ "حماس کی طرف سے کوئی سنجیدہ تجویز سامنے نہیں آئی ہے۔ یہ (قیاس آرائی) غلط ہے کہ غزہ میں کوئی نئی ڈیل ہو رہی ہے۔ میں یہ واضح طور پر کہہ رہا ہوں کیونکہ بہت سارے غلط بیانات ہیں جو یقیناً آپ کو تکلیف پہنچاتے ہیں"۔

غزہ میں حماس کے زیر حراست افراد کے خاندان کے درجنوں افراد نے پیر کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ میں فنانس کمیٹی کے اجلاس پر دھاوا بول دیا اور نعرے لگائے۔ مظاہرین’’ہمارے پیارے وہاں مررہے ہیں تم یہاں نہیں بیٹھو گے‘‘۔ کے نعرے لگا رہے تھے۔

یرغمالیوں کے اہل خانہ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ معاہدہ کرے۔

قیدیوں کے رشتہ داروں نے حالیہ دنوں میں اپنے احتجاجی مظاہروں کو منظم کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے رشتہ داروں کی رہائی کے لیے مزید کوششیں کی جائیں۔

اسرائیلی قیدیوں کے متعدد رشتہ دار اتوار کی شام بنجمن نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے سامنے جمع ہوئے اور خیمے لگا کران سے اپنے پیاروں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے فوری معاہدہ کرنے کا مطالبہ کیا، جب کہ سینکڑوں افراد نے تل ابیب میں جنرل اسٹاف ہیڈ کوارٹر کے سامنے مظاہرہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں