یورپی یونین کا غزہ جنگ کے بعد اسرائیل پر دو ریاستی حل کے لیے دباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے حتمی دو ریاستی حل پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ صرف فوجی اقدامات سے امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بیان اسرائیل اور فلسطین کے وزرائے خارجہ سے ملاقات سے قبل جاری کیا۔

پیر کے روز ایک بیان میں جوزف بوریل نے اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی طرف سے غزہ میں جنگ کے بعد فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبات کو مسترد کرنے کو ناقابل قبول قرار دیتے کہا "ہم دو ریاستی حل اپنانا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس بارے میں بات چیت کرنی چاہیے۔"

انہوں نے اسرائیلی حکام سے کہا کہ "امن اور استحکام صرف فوجی اقدامات سے نہیں آسکتا ہے۔"

جوزف بوریل کا کہنا تھا کہ "ان کے پاس کیا حل موجود ہے؟ تمام فلسطینیوں کو نکال دیں؟ انہیں قتل کر دیں؟"

یورپی یونین کے حکام نے زور دیا ہے کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل فلسطین تنازع کو حتمی طور پر حل کرنے کے بارے میں بات کی جائے۔‘

یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار نے کہا کہ انہوں نے بلاک کے وزراء کو پائیدار امن کی تلاش کے لیے جامع نقطہ نظر کے ساتھ موقف پیش کرنے کا کہا ہے۔

حماس کے اسرائیل پر اچانک حملے اور اس کے بعد اسرائیل کی جانب سے تباہ کن فوجی رد عمل نے شرق اوسط کو ایک تازہ بحران میں جھونک دیا ہے جس کے خطے کے دیگر ممالک تک پھیلنے کے خطرات موجود ہیں۔

یورپی بلاک کے 27 وزرائے خارجہ برسلز میں اسرائیل، فلسطینی اتھارٹی اور اہم عرب ریاستوں کے ہم منصبوں سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔

حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر اچانک حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

عسکریت پسندوں نے حملوں کے دوران تقریباً 250 یرغمالیوں کو بھی پکڑ لیا، جن میں سے 132 کے قریب کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں ہی موجود ہیں۔

حماس کے زیر انتظام غزہ میں وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی مسلسل فضائی اور زمینی کارروائی میں کم از کم 25,105 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں