اسرائیلی حملے، لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد 200 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں سات اکتوبر کے بعد 200 لبنانی ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ بات پیر کے روز 'اےایف پی ' کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

سات اکتوبر کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیانی سرحد پر حالات مسلسل کشیدہ ہیں۔ آئے روز اسرائیل کی جانب سے بمباری ہوتی یے جبکہ حزب اللہ کی طرف سے اسرائیلی فوجی پوسٹوں پر راکٹ فائر کیے جارہے ہیں۔ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے ردعمل کے طور پر اسرائیلی جنوبی سرحد کو نشانہ بناتی ہے۔

پیر کے روز لبنانی حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے دو جنگجو یروشلم کے راستے پر ہلاک ہو گئے ہیں۔ واضح رہے حزب اللہ عام طور پر اپنے اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کو یروشلم کے راستے کے شہید کہتی ہے۔

پیر کے روز اسرائیل کے لبنانی سرحد اور لبنانی سرحد کے قریب اور لبنان کے اندر تک کے حملوں لبنانی ہلاکتوں کی تعداد دو سو ہو گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ان دو سو میں سے 146 حزب اللہ کے جنگجو ہیں جبکہ باقی عام لوگوں کی تعداد ہے۔ اسرائیلی گولہ باری سے ہلاک ہونے والےصحافیوں اور سپاہیوں سمیت لبنانی شہری 25 بتائے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں اہم بات یہ اسرائیلی فوج تو پوری طرح گولہ باری کر رہے مگر لبنانی فوج نے کبھی جواب نہیں دیا ہے۔

لبنان کے جنوب میں حماس اور دوسری فلسطینی مزاحمتی گروپوں کا کہنا ہے کہ ان سے وابستہ دس جنگجو بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان میں حماس کے علاوہ اسلامی جہاد کے جنگجو بطور خاص شامل ہیں۔ بتایا گیا یے کہ ان دو سو ہلاکتوں میں حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری کی ہلاکت کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

'اے ایف پی' کے مطابق پیر کے روز اسرائیلی بمباری اور گولہ باری کا سلسلہ اسرائیل نے جاری رکھا۔اس دوران لبنانی سرحدی علاقے میں ایک دیہی ہائی سکول کو بھی نشانہ بنایاگیا ہے۔ دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیلی فوج کو نشانہ بنایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں