اسرائیل اور حماس کی جنگ کے درمیان غزہ چھوڑ رہا ہوں: فلسطینی صحافی معتز عزایزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی فوٹو جرنلسٹ معتز عزایزہ نے منگل کو ایک سوشل میڈیا ویڈیو میں اعلان کیا کہ وہ جنگ زدہ غزہ کی پٹی چھوڑ دیں گے۔

"انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "مجھے کئی وجوہات کی بنا پر وہاں سے نکلنا پڑا جن میں سے کچھ آپ سب جانتے ہیں لیکن تمام نہیں۔ آپ سب کا شکریہ۔ غزہ کے لیے دعا کریں۔

عزایزہ محصور غزہ کی پٹی میں میڈیا کی ایک اہم قوت رہے ہیں جو انسٹاگرام پر 18 ملین سے زیادہ اور ایکس پر ایک ملین سے زیادہ پیروکاروں تک اسرائیل-حماس جنگ کی براہِ راست اپ ڈیٹس لاتے ہیں۔

عزیزہ نے ایک انسٹاگرام ویڈیو میں اپنی مخصوص نیلی پریس جیکٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "یہ آخری بار ہے جب آپ مجھے اس بھاری بدبودار جیکٹ کے ساتھ دیکھیں گے۔" یہ جیکٹ اکثر جنگی علاقوں میں صحافی خود کو غیر سپاہی کے طور پر شناخت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

فوٹو جرنلسٹ نے کہا انہیں غزہ چھوڑنے کا افسوس ہے اور وہ پرامید ہیں کہ انکلیو کی تعمیرِ نو میں مدد کے لیے واپس آئیں گے۔ ویڈیو میں وہ اپنے قریبی دوستوں اور کنبہ کے افراد میں گھرے ہوئے ہیں جو پریس جیکٹ اتارنے میں ان کی مدد کرتے اور ان کے غزہ کو الوداع کہتے وقت انہیں گلے لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

جنگ میں ایک دریچہ

دنیا بھر میں لاکھوں افراد غزہ کی جنگ کا مشاہدہ فلسطینیوں کی آنکھ سے کر رہے ہیں جو سوشل میڈیا پر اپنے روزمرہ کے حقائق کا اشتراک کرتے ہیں۔ ان شہری صحافیوں نے انسٹاگرام اور ایکس پر اپنی پوسٹس کے ذریعے تنازعہ کو ایک چہرہ عطا کیا ہے۔

ان کے پیروکاروں نے جواباً ان کے ساتھ ایک مضبوط جذباتی تعلق استوار کیا ہے۔

عزایزہ کی انسٹاگرام پوسٹس اکثر ان کی خیریت دریافت کرنے والے تبصروں سے بھری رہتی ہیں اور اس سے بھی زیادہ جب انہوں نے کچھ عرصے سے اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں کیا ہے۔ وہ اکثر ویڈیوز پوسٹ کرتے اور اپنے انسٹاگرام پر غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کو دستاویزی شکل دیتے ہیں جہاں انہیں مسمار مکانات کے ملبے کے درمیان پناہ لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

2014 اور 2021 میں غزہ پر اسرائیل کی جنگوں کا احاطہ کرنے سے پہلے عزایزہ کا کام ابتدائی طور پر غزہ میں روزمرہ کی زندگی کی تصویر کشی پر مرکوز تھا۔ ان کے انسٹاگرام پیروکاروں میں - 25,000 سے 18 ملین تک - صرف 100 دنوں میں نہایت تیزی سے اضافہ ہوا ہے جب سے اسرائیل نے حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے جواب میں اپنی فوجی مہم شروع کی ہے۔

"انہوں نے ایک حالیہ پوسٹ میں کہا، "یاد رکھیں ہم کوئی مواد نہیں جس کا اشتراک کیا جائے، ہم ایک ایسی قوم ہیں جو قتل ہو رہی ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں