خود مختار فلسطینی ریاست سے اسرائیلی انکار پر برطانیہ کو مایوسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی ریاست کے قیام کے سلسلے میں برطانیہ کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے موقف سے مایوسی ہوئی ہے۔ یہ مایوسی اسرائیلی ریاست کی تصور کی بانی اور اسرائیل کے انتہائی اولین سہولتکار برطانیہ کے وزیر اعظم کے دفتر جاری کردہ بیان میں ظاہر کی ہے، تاہم برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کے اس بیان میں خود مختار فلسطینی ریاست کے بارے برطانیہ کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کے سب سے بڑے حامی امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان جاری مسئلے کے حل کے لئے مستقبل کی دو ریاستی حل پر عدم اتفاق سامنے آیاہے۔ ایک آزاد فلسطینی ریاست جس کے قیام کے حق میں اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ مگر پچھلے 75 برسوں سے اسرائیل فلسطینیوں کے جائز حق سے انکاری۔ اسرائیلی وزیر اعظم ۔نے اہک بار پھر اسی انکار کو دہرایا ہے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ دریائے اردن کے مغربی علاقے میں اسرائیلی کنٹرول کو کمزور نہیں کرے گا۔ یاہو نے یہ بات زور دے کر کہی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے ان خیالات پر برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان نے کہا ' ہمیں اسرائیلی وزیر اعظم کی طرف سے سن کر مایوسی ہوئی ہے۔ '

ترجمان نے کہا ' برطانیہ کی پوزیشن دوریاستی حل کے لئے آج بھی برقرار ہے۔ کہ ایک آزاد فسلطینی ریاست جو محفوظ و مامون اسرائیلی ریاست کے ساتھ اپنا وجود رکھے ۔یہ خطے کے پائیدار امن کے لئے ضروری ہے۔ '

دوسری جانب اسرائیل جس کی تخلیق سے لے کر غزہ میں جاری جنگ تک امریکی برطانوی حمایت جاری ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل اپنے موقف پر قائم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل کے موقف اور عملی انحراف کے باوجود اس سلسلے میں صرف مایوسی اور افسوس ہی ظاہر کرتی ییں اور بیانات دیتی ییں۔

جیسا کہ برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان نے تازہ بیان میں کہا ہے ' علاقے میں پائیدار سلامتی کے لئے ایک لمبا راستہ ہو گا۔ لیکن ہم دوریاستی حل کے کئے اپنی طویل مدتی حمایت جاری رکھیں گے۔' گویا برطانیہ جس حل کو ضروری سمجھتا ہے اس کے لئے ابھی مزید لمبی مدت کے انتظار کے لئے بڑا واضح ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں