سعودی عرب:عالمی ثقافتی میلے میں مشرق ومغرب کے ثقافتی رنگ یکجا

عسیرمیں جاری تیسرے سالانہ قمم انٹرنیشنل فیسٹیول میں 25 ممالک کے روایتی ملبوسات کی نمائش توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے علاقے عسیرمیں جاری تیسرے سالانہ ’قمم انٹرنیشنل فیسٹیول فار ماؤنٹین پر فارمنگ آرٹس‘‘ کے ثقافتی پروگراموں کےتحت مختلف ممالک کے ملبوسات کی نمائش کی گئی۔

میلے کی چھت کی نیچےمشرق ومغرب سے تعلق رکھنے والے ممالک کے روایتی ملبوسات کے مخلتف رنگ اور ڈیزائن شرکاء کی طرف سے پسند کیے گئے۔ اس طرح اس نمائش نے مشرق اور مغرب کو باہم ملا دیا۔

نمائش میں چین، سے ارجنٹائن اور بھارت سے مراکش تک دو درجن ممالک نے اپنے روایتی ملبوسات پیش کیے۔

’قمم‘ فیسٹیول‘ ایڈیشن میں گذشتہ روز 25 ممالک کے روایتی ملبوسات کی نمائش نے حاضرین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ شرکاء روایتی پہناووں کو دیکھ کر حیران نظرآئے۔ میلے میں عسیرکے دیہی علاقوں کے روایتی ملبوسات پیش کیے گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم نے میلے میں ملبوسات کی نمائش کے موقعے پران کی تصاویر اور ان کے بارے میں معلومات جمع کیں۔

ان ملبوسات میں مرد وزن کی ملبوسات شامل ہیں۔ ان میں لبنانی ’شروال‘ اور مراکشی قفطان توجہ کا مرکز رہے۔

اس موقعے پرتھیٹر اینڈ پرفارمنگ آرٹس اتھارٹی کے ’سی ای او‘ سلطان البازعی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی نمائشیں قدیم دیہاتوں کے لوگوں کو ان کے ملبوسات کے ذریعے ان کی ثقافتوں کے بارے میں جاننے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ یہاں قمم انٹرنیشنل فیسٹیول میں ان ممالک کے ملبوسات کی شرکت کے لیے مخصوص معیار کو سامنے رکھا گیا۔ اس کے علاوہ خواتین اور مردوں کے روایتی عوامی فیشن برانڈز اور پہناووں کی نمائش سے ان ممالک کی ثقافت کو اجاگر کیا گیا۔ تاکہ ملبوسات کے ڈیزائن کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان ممالک کی تہذیب وثقافت کو سمجھنے میں مدد ملے۔

فیلڈ ٹور کے دوران قمم میلے میں شامل متعدد ممالک سےآئے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نمائش میں لبنان میں مردانہ کپڑوں میں "شروال" کو پیش کیا گیا۔ یہ جو سیاہ تیرغال سے بنا ہوا کپڑا ہے، جبکہ اس پر سیاہ اور برگنڈی دھاگوں سے ہاتھ سے کڑھائی کی گئی ہے۔اس کے ساتھ شامل قمیض کرسٹل کے معیاری کپڑے سے تیار کی گئی ہے جس کی پشت، بازؤوں، گلے اور گردن پر سوتی دھاگے سے کڑھائی کی گئی ہے۔

لبنانی خواتین کے ملبوسات میں "بروکار" کے نام سے مشہور کپڑے سے بنی ہوئی شلوار اور قمیض کی نمائش کی گئی۔ اس پر ریشم کےدھاگے سے کڑھائی کی گئی ہے۔ یہ لبنان کا ایک روایتی لباس ہے جسے گذرے وقت میں دبکہ رقص کے موقعے پرشادی بیاہ کی تقریبات کے دوران دیکھا جاتا تھا۔

نمائش میں پیش کردہ مراکش کے ’قفطانی‘ لباس کو 12ویں صدی عیسوی کے دور کا روایتی لباس سمجھا جاتا ہے۔

اس موقعے پراطالوی پارٹی ملبوسات بھی شرکاء کی توجہ کا مرکز دکھائی دیے۔ ان میں خاص طور پر بھاری سوتی دھاگے سے بنے کپڑوں کو اون اور سونے کی دھات کی ہاتھ کی کڑھائی سے سجایا گیا تھا۔

میلےمیں لاطینی امریکا کے ممالک کے روایتی پہناوے بھی توجہ کا مرکز رہے۔

ان میں ارجنٹائن کے کولاس ڈریس نے وہاں کی پرانی ثقافت کا اظہار کیا۔ اس میں ٹوپی، کھردری قمیض کے علاوہ سر پر سفید اسکارف بھی شامل ہے۔

کولمبیا کے پیش کردہ روایتی ملبوسات میں ایک لمبا سفید بلاؤز ہے، اس کے ساتھ ساتھ ایک چوڑا اسکرٹ اور پھولوں کا تاج، جب کہ مردوں کے ملبوسات میں سفید قمیض، پتلون اور رنگین واسکٹ کے علاوہ بنے کڑھائی کیے گئے جوتے شامل ہیں۔

جب بات ثقافت کی ہو تو چین اس میں پیچھے کیسے رہ سکتا ہے۔ نمائش میں جہاں مغربی روایتی ملبوسات توجہ کا مرکز تھے وہیں مشرقی اور چینی روایتی لباس کے ڈیزائنز کو بھی پسند کیا گیا۔ چین کے روایتی لباس میں چار جیبوں والی قمیض توجہ کا مرکز رہی۔

بھارت کی طرف سے نمائش میں ملبوسات کے روایتی فیشن کے متعدد رنگ نمایاں تھے۔ ہندوستان سے کڑھائی کیے گئے روایتی کپڑوں اور دستکاری کی مختلف اشیاء کی نمائش کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں