غزہ میں نوادرات کے ایک گودام میں اسرائیلی فوجی کیا کررہےہیں؟ نئی متنازعہ ویڈیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گذشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پرایک ویڈیو کلپ گردش کر رہا ہے جس میں اسرائیلی فوجیوں کوغزہ میں قدیم نوادرات پر مشتمل ایک گودام پر دھاوا بولنے کے بعد دکھایا گیا ہے۔

اسرائیلی نوادرات پرکام کرنے والی تنظیم ’عمق شبیہ‘ کے مطابق ویڈیو میں اسرائیلی فوجیوں کو برتنوں سے بھرے ایک گودام کے اندر دکھایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پرپھیلنےوالی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے تنظیم نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اسرائیلی فوجی غزہ میں آثار قدیمہ کے ایک مقام پر موجود تھے۔ ان کے ساتھ اسرائیلی نوادرات اتھارٹی کا ایک ملازم بھی تھا۔

اگرچہ ویڈیو سے غزہ میں اس جگہ کا مقام واضح نہیں ہے۔ تاہم اسرائیلی نوادرات اتھارٹی کے ڈائریکٹر ایلی ایسکوسیڈو نے اتوار کو اسے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا۔

سیکڑوں آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات کی تباہی

’عمق شبیہ‘ نے کہا کہ"اسرائیلی نوادرات کی اتھارٹی کے ڈائریکٹر کی ایک پوسٹ میں ایسا لگتا ہے کہ ان کے نائب کو غزہ میں نوادرات کا معائنہ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ڈائریکٹر نے ان نوادرات کو قبضے میں لینے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے 'حیرت انگیز'قرار دیا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان نوادرات کے حوالے سے اتھارٹی کے کیا عزائم ہیں"۔

تنظیم نے مزید کہا کہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران آثار قدیمہ اور تاریخی اہمیت کے حامل سیکڑوں مقامات کو تباہ کیا گیا ہے۔ اس پر جشن منانے کی ضرورت نہیں۔

تنظیم نے مزید کہا کہ "ریاست اسرائیل کوغزہ میں نوادرات کے ایک بھی ٹکڑے پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ جو بھی ہے غزہ کے لوگوں کا ہے‘‘۔

اسرائیلی نوادرات اتھارٹی کی وضاحت

’عمق شبیہ‘ نے کہا کہ اس کی طرف سے ٹویٹس کے بعد اسرائیلی نوادرات اتھارٹی نے ان سے رابطہ کیا اور اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے غزہ میں نوادرات کی جگہ کےدورے کے بارے میں وضاحت کی۔

اسرائیلی نوادرات اتھارٹی نے کہا کہ فوج نے ان کے ادارے سے کہا تھا کہ وہ غزہ میں ایک گودام کا معائنہ کرے جس میں قدیم نوادرات ہیں، یا ایسے نمونے جو قدیم معلوم ہوتے ہیں وہاں موجود ہیں"۔

نوادرات اتھارٹی نے مزید کہا کہ "ایک ماہر آثار قدیمہ (جس کا اس نے نام نہیں بتایا) کی طرف سے ابتدائی جانچ کرائی گئی۔اس کی مقررہ وقت پر اسرائیلی فوج کو ایک تحریری رپورٹ پیش کی جائے گی۔ اسرائیلی فوج اس مقام پر موجود نوادرات کی حفاظت کرے گی۔

غزہ میں 200 سے زائد آثار قدیمہ اور ورثے کے مقامات تباہ

قابل ذکر ہے کہ غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل نے گذشتہ 7 اکتوبر سے پٹی پر جاری جنگ کے ایک حصے کے طور پر پٹی کے 325 مقامات میں سے 200 سے زائد آثار قدیمہ اور ورثے کے مقامات کو نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا۔

21 نومبر 2023ء کو انسانی حقوق گروپ یورو- میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس آبزرویٹری نے کہا کہ اسرائیل جان بوجھ کر غزہ میں فلسطینی آثار قدیمہ کو تباہ کر رہا ہے۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ انسانی ثقافتی ورثے کو واضح طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

آبزرویٹری نے اس وقت ایک بیان میں اشارہ کیا تھا بین الاقوامی انسانی قانون ہر حال میں ثقافتی اور مذہبی مقامات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی ممانعت کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں