کردستان میں پاسداران انقلاب کے حملوں کے خلاف احتجاج،ایرانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی کرد تاجر بیشرو دیزئی کے گھر پر ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے میزائل حملے کے خلاف عراقی شہر اربیل میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ کل سوموار کو کردستان کے علاقے عقرہ اور زاخو شہروں میں بھی بہت سے شہریوں نے احتجاج کیا۔انہوں نے ایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے کے خلاف احتجاج کیا اور ایرانی مصنوعات کےبائیکاٹ کی اپیل کی۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز اور تصاویر کے مطابق کردستان کے علاقے کے ان دو شہروں میں پیر کو بڑی تعداد میں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔

16 جنوری کی صبح ایرانی پاسداران انقلاب نے اربیل کے ایک علاقے کو نشانہ بنایا، جسے اس نے موساد کا ہیڈکوارٹرقرار دیا تھا۔ ساتھ ہی شامی صوبے ادلب کے ایک علاقے کو بھی نشانہ بنایا۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ شام میں داعش کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے اعلان میں کہا ہے کہ کردستان کے علاقے پر حملے ایرانی پاسداران انقلاب کے حامی رہ نماوں کی ہلاکت کے ردعمل میں کیے گئے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ "اسرائیل میں جاسوسی کا ایک اہم ہیڈکوارٹر" ان حملوں میں تباہ ہو گیا۔

اس کے چند گھنٹے بعد عراقی کردستان ریجن کے وزیر اعلیٰ مسرور بارزانی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ایرانی پاسداران انقلاب کے حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ اس حملے میں متعدد عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اس تناظر میں کردستان کے علاقے کے مختلف شہروں اور بعض یورپی شہروں میں گذشتہ چند دنوں کے دوران احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

سوئٹزرلینڈ، جرمنی، ناروے، فن لینڈ اور سویڈن میں رہنے والے کرد شہریوں نے ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے کیے گئے میزائل حملوں کی مذمت کے لیے گذشتہ ہفتے اور اتوار کو کئی احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں