اسرائیل نے ایلی بستی پر حملے میں معاونت کے الزام میں فلسطینی کا گھر مسمار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے بدھ کے روز ایک فلسطینی کے گھر کو دھماکے سے اڑا دیا جس پر جون میں مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک بستی کے قریب چار اسرائیلیوں کے قتل میں معاونت کا الزام تھا۔

باسل شہیدہ کو شمالی مغربی کنارے میں ایلی بستی کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن پر مہلک فائرنگ کرنے میں دو دیگر فلسطینیوں کی مدد کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔

حملہ آور مہند شھیدہ اور خالد صباح اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں جاں بحق ہو گئے جبکہ ان کے مبینہ ساتھی کو گرفتار کر لیا گیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ فوجیوں نے راتوں رات اوریف گاؤں پر یلغار کر دی اور باسل شہیدہ کے گھر کو گھیرے میں لے لیا۔

"ویلج کونسل کے سیکرٹری عادل العمیر نے اے ایف پی کو بتایا کہ "خاندان کو تین منزلہ عمارت سے نکالا گیا، پھر عمارت کی دوسری منزل کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ اس نے راتوں رات شہیدہ کے گھر کو مسمار کر دیا تھا۔

فوج نے اے ایف پی کو ایک بیان میں بتایا کہ ’’یہ مسماری اسی حملے میں ملوث دیگر دہشت گردوں کی رہائش گاہوں کی تباہی کے بعد کی گئی‘‘۔

اسرائیل معمول کے مطابق حملوں کے الزام میں فلسطینیوں کے گھروں کو یہ دلیل دیتے ہوئے مسمار کر دیتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات انسداد کا کام کرتے ہیں جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔

ایلی بستی کے قریب فائرنگ گذشتہ سال 20 جون کو کی گئی تھی جس کے ایک دن بعد اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین پر ایک مہلک حملہ کیا تھا۔

اسرائیل نے مغربی کنارے پر 1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد سے قبضہ کر رکھا ہے۔

الحاق شدہ مشرقی یروشلم کو چھوڑ کر یہ علاقہ اب تقریباً 490,000 اسرائیلیوں کا گھر ہے جو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی سمجھی جانے والی بستیوں میں رہتے ہیں۔

غزہ میں 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے مغربی کنارے میں تشدد بھڑک اٹھا ہے۔ رام اللہ میں فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فوجیوں اور آباد کاروں کے ہاتھوں 360 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں