عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پر امریکی حملے، بغداد کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

عراق میں مسلح جنگجو ملیشیا ’الحشد الشعبی‘ سے منسلک ایران نواز گروپوں پر امریکی حملوں میں شدت آنے کے بعد بغداد کے سرکاری حلقوں کی جانب سے اسے اپنی آزادی وخود مختاری پر حملہ قرار دے کر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

بدھ کے روز عراقی حکومت نے الحشد الشعبی ملیشیا کے ٹھکانوں پر کئے جانے والے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کارروائیاں مشترک سکیورٹی کے لئے ہونے والے معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ امریکہ کی براہ راست عراق میں کارروائیاں بغداد کی خودمختاری پر حملہ ہیں۔

بغداد حکومت کے ایک بیان میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایسے حملوں سے کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس وقت غزہ اسرائیل جنگ کی وجہ سے لڑائی کا دائرہ خطے میں پھیل سکتا ہے۔ بیان کے مطابق ’’امریکہ نے عراقی سرزمین کی خودمختاری پر ایسی جارحیت کا ارتکاب کیا ہے، جس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

بیان میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سلامتی کے لیے عراق کی خود مختاری کو تمام قسم کے خطرات سے محفوظ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

ادھر عراق میں قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعزجی نے الحشد الشعبی کے ٹھکانے پر امریکی حملے کو بغداد کی خود مختاری پر حملے سے تعبیر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس [سابقہ ٹوئٹر] پر بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیاں تنازعہ کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے اسے بڑھاوا دینے کا باعث بنتی ہیں۔

قبل ازیں امریکہ نے بتایا کہ اس کی افواج نے عراق میں ایرانی حمایت یافتہ الحشد الشعبی نامی ملیشیا کے زیر استعمال تین تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ حملے عراق اور شام میں امریکی فوجیوں کے خلاف ہونے والے حملوں کا جواب ہیں۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں پر ڈرون اور میزائل سے ہونے والے حملوں کے جواب میں واشنگٹن نے منگل کے روز عراق میں ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں سے منسلک تین تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

چند روز قبل ہی امریکی افواج نے اپنے ایک حملے میں عراق میں موجود ایران نواز ملیشیا گروپ کے ایک رہنما کو ہلاک کر دیا تھا، جس کے بعد یہ تازہ کارروائی کی گئی ہے۔ اس پہلے والے حملے کی وجہ سے بغداد میں زبردست غم و غصہ پھیل گیا تھا، جس کی وجہ سے ایک بار پھر سے عراق سے امریکی فوجی اہلکاروں کو ہٹانے کے لیے مطالبات شروع ہو گئے۔

لائیڈ آسٹن نے ایک بیان میں کہا، ''صدر جو بائیڈن کی ہدایت پر، امریکی فوجی دستوں نے عراق میں ایرانی حمایت یافتہ کتائب حزب اللہ ملیشیا گروپ اور ایران سے وابستہ دیگر گروپوں کے زیر استعمال تین تنصیبات پر اہم اور متناسب حملے کیے گئے۔''

ان کا مزید کہنا تھا، ''یہ تیر بہ ہدف اور درست حملے عراق اور شام میں امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے حملوں کا براہ راست جواب ہیں۔''

امریکی حکام نے بتایا کہ امریکی میزائلوں نے شام کی سرحد کے قریب مغربی عراق میں واقع دو اڈوں کو نشانہ بنایا۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان حملوں میں دو عسکریت پسند ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوئے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ، جو کہ مشرق وسطیٰ میں کارروائیاں کرنے کی ذمہ دار ہے، کا کہنا ہے کہ حملوں میں کتائب حزب اللہ کے ''ہیڈ کوارٹر، اسٹوریج اور راکٹ و میزائل کے لیے تربیتی مقامات'' اور ڈرون کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ادھر کتائب حزب اللہ کے فوجی ترجمان جعفر الحسینی نے سوشل میڈیا ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ گروپ مشرقی وسطی میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے خاتمے تک ''دشمنوں کے ٹھکانوں '' کو نشانہ بناتا رہے گا۔ اس نے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

عراقی پاپولر موبلائزیشن فورسز کے ارکان
عراقی پاپولر موبلائزیشن فورسز کے ارکان

عراق اور شام میں امریکہ کے فوجی اڈے ہیں، جو گزشتہ اکتوبر سے اب تک 150 سے زیادہ بار نشانہ بن چکے ہیں۔ جواباً امریکہ نے بھی ان کے ٹھکانوں پر متعدد حملے کیے ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں امریکی حملے میں بغداد میں ایک ایران نواز کمانڈر مارا گیا تھا، جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی تھی اور عراق نے امریکہ سے فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے امریکی فوج کو عراق سے باہر نکالنے کے کسی منصوبے کے بارے میں باضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا گیا ہے۔

عراق اور شام میں جوابی حملوں کے ساتھ ہی امریکہ نے، بحیرہ احمر اور خلیج عدن سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے خلاف حوثی عسکریت پسندوں کے حملوں کے جواب میں، یمن میں بھی متعدد حملے کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں