فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں کوئی فوری ڈیل نہیں ہو رہی، پیچیدہ مذاکرات میں وقت لگ سکتا ہے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالث ممالک کی کوششوں سے مذاکرات کی خبروں کے بعد اسرائیل نے واضح کیا ہےکہ غزہ میں فی الحال جنگ روکنے کا کوئی معاہدہ زیر غور نہیں۔

اسرائیل کے ایک سینیر سیاسی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان ابتدائی معاہدوں کے قریب پہنچنے کی افواہیں غلط ہیں۔

انہوں نے آج بدھ کے روز کہا کہ "یہ خبریں کہ اسرائیل اور حماس نے اصولی طور پر جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے سرا سر غلط اور بے بنیاد ہیں"۔

کوئی پیش رفت نہیں ہوئی

اسرائیل کے عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ "مذاکرات کے عمل میں بہت بڑے خلاء ہیں اور بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے"۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "مذاکرات بہت پیچیدہ ہیں، حماس کے موقف میں کوئی لچک نہیں دکھائی گئی‘‘۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ مذاکرات کو عملی جامہ پہنانے میں بہت وقت لگے گا۔

غزہ کی پٹی سے
غزہ کی پٹی سے

قبل ازیں امریکی اخبار’وال سٹریٹ جرنل‘ نے بتایا تھا کہ حماس کے عہدیداروں کی جانب سے بین الاقوامی ثالثوں کو مطلع کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں قید کچھ مغوی اسرائیلیوں کی رہائی کےبدلے طویل جنگ بندی کےمعاہدے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

مصری حکام نے کہا کہ حماس نے تمام زیر حراست شہری خواتین اور بچوں کی رہائی کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

بین الاقوامی ثالثی کی کوششوں کے ساتھ متعدد ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں فریق غزہ میں متعدد اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی طے کرنے والے ابتدائی معاہدے پر متفق ہونے کے قریب ہیں۔

تاہم حماس کے متعدد رہ نماؤں نے حال ہی میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ابھی تک اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر راضی نہیں ہوئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ نومبر (2023ء) کے اواخر میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے دوران تقریباً 100 قیدیوں کی رہائی کی عمل میں لائی گئی تھی۔

اس معاہدے کے تحت 240 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں