العربیہ ایکسکلوسیو

ہوا کے شدید طوفان کے باوجود کہنہ مشق سعودی پائلٹ نے طیارہ کامیابی سے اتار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

خراب موسم میں کسی طیارے کی ہوائی اڈے پرلینڈنگ ایک مشکل کام ہوتا ہے اور بعض اوقات تیز ہواؤں اور طوفان کی وجہ سے لینڈنگ کے لیے متبادل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔

لندن میں ہیتھرو ہوائی اڈے پر ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا جب ’ایشار‘ طوفان نے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو بہت سے پائلٹوں کے لیے ہوائی اڈے پر اترنا مشکل تھا۔ انہوں نے احتیاطی تدابیر کے لیے متبادل راستہ اپنایا۔

لیکن سعودی عرب کے ایک کہنہ مشق پائلٹ نے ہوا کے شدید طوفان کے باوجود اپنے تجربے اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے طیارے کو کامیابی کے ساتھ ہیتھرو ایئرپورٹ پر اتار دیا۔ یہ ایک مشکل مگر کامیاب لینڈنگ تھی جس پر پائلٹ الغامدی کو سراہا تھا۔

سعودی پائلٹ حسن الغامدی کی ذہانت کو ہوا بازی کے ماہرین کی جانب سے سراہا گیا خاص طور پر چونکہ اس وقت ہوا کی رفتار 55 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی تھی جو طیاروں کے پرواز کے لیے ایک چیلنج تھی۔

پائلٹ نے لینڈنگ کی کہانی بتاتے ہوئے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے طیاروں کی لینڈنگ میں ناکامی کے باوجود میں نے لینڈ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ کئی دوسرے طیاروں کے پائلٹوں نے متبادل ہوائی اڈوں کا رخ کیا کہ میں نے ہوا کی رفتار میں تبدیلی کے باوجود لینڈنگ کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "مجھے ہوا بازی کا 28 سال کا تجربہ ہےاور میں نے 16,000 گھنٹے سے زیادہ پرواز کی ہے۔ لینڈنگ میں مسافروں کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ پائلٹ کسی بھی وقت لینڈنگ منسوخ کر سکتا ہے"۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ چیف فلائٹ اٹینڈنٹ نے اس اقدام کو سراہا جبکہ لینڈنگ کے وقت مسافروں نے تالیاں بجائیں۔ وہ خوش تھے کہ طیارہ کامیابی سے بحفاظت لینڈ کر گیا ہے۔

اپنے پیشہ ورانہ کیرئیر کے دوران پیش آنے والے اہم ترین حالات واقعات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں پہلے بھی ایک بار ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس وقت ہوا کی رفتار کم تھی، لیکن یہ آخری لینڈنگ زیادہ مشکل تھی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اس کے لیے سب سے مشکل حالات وہ تھے جب ایک بار طیارے میں پرواز کے دوران ایک مسافر کی موت واقع ہوئی اور ایک بار ایک خاتون نے طیارے میں بچے کو جنم دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں