فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کا غرب اردن میں سویلین سکیورٹی ٹیموں کو ٹینک شکن میزائلوں سے لیس کرنے پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ کے مطابق اسرائیلی فوج مغربی کنارے کی بستیوں میں سویلین سکیورٹی ٹیموں کو ٹینک شکن میزائلوں سے مسلح کرنے پر غور کر رہی ہے۔

اخبار نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مطالبہ دائیں بازو کے سیاست دانوں اور مغربی کنارے کی بستیوں کے رہائشیوں نے کیا ہے جس کا مقصد "سویلین سکیورٹی ٹیموں کو 7 اکتوبر کے غزہ سے جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملوں جیسے واقعات میں اپنے دفاع کے لیے مسلح کرنا" ہے۔

فلسطین کا رد عمل

دوسری جانب فلسطینی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز مغربی کنارے کی بستیوں میں سکیورٹی ٹیموں کو"جھوٹے" بہانوں سے ٹینک شکن میزائلوں سے مسلح کرنے کے خطرات سے خبردار کیا اور کہا کہ اس سے "صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ "شدت پسند دائیں بازو کے عہدیداروں کی اشتعال انگیزی اور مغربی کنارے کی صورتحال میں جلتی پر تیل چھڑکنے اور حالات کو مزید خراب کرنے کی دانستہ کوشش کے مترادف ہیں۔

"غزہ جیسی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش"

فلسطینی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں میں سکیورٹی ٹیموں کو میزائلوں سے مسلح کرنے سے اسرائیل کے لیے "غزہ کی پٹی میں ہونے والی تباہی، نسل کشی اور نقل مکانی کی صورت حال پیدا کرنا اور اسے مغربی کنارے میں لاگو کرنا آسان ہو جائے گا"۔

وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ آباد کاروں کو مسلح کرنے کے معاملے پر عمل کریں اور اسرائیل کو مسلح گروپوں کو ختم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

اسرائیلی میڈیا نے گذشتہ ماہ اطلاع دی تھی کہ فوج اور وزارت دفاع نے سویلین ٹیموں کو مسلح کرنے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا ہے تاکہ کسی بھی حملے یا دراندازی کا مقابلہ کرنے میں ان کی مدد کی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں