اسرائیل کے عرب کاروباری طبقے کو یہودیوں کی طرف سے معاشی بائیکاٹ کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنگ کے زمانے میں اقلیت بننا کتنا مشکل ہوتا ہے، اس کا اندازہ اسرائیل میں بسنے والے عرب باشندوں کی حالت زار سے لگا سکتے ہیں۔ اسرائیل کے یہودی جن کی تعداد 72 لاکھ سے زیادہ ہے نے سنہ 1948ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقوں میں بسنے والے عرب دکانداروں کا بائیکاٹ شروع کردیا ہے۔ اگرچہ یہودی پہلے بھی عربوں کی دکانوں پر کم ہی جاتے تھے مگر گذشتہ برس سات اکتوبر کو حماس کی طرف سے شروع کئے گئے ’طوفان الاقصیٰ‘ معرکے کے بعد اسرائیلی یہودیوں نے عربوں سےخریداری بند کردی ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل میں سنہ 1948ء کی جنگ میں اسرائیل کا حصہ بننے والے علاقوں میں مجموعی طور پر بیس لاکھ فلسطینی آباد ہیں جنہیں اسرائیل میں اقلیت کا درجہ دیا جاتا ہے۔

جواد ابراہیم
جواد ابراہیم

عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ کے مطابق مقبوضہ یروشلم سے 13 کلومیٹر دور ابوغوش قصبے میں رہائشیوں اور دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ملازمتیں کھو چکے ہیں اور بدترین معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان میں ایک عربی فوڈ ریسٹورنٹ کے مالک جواد ابراہیم بھی شامل ہیں جنہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ مہینوں میں ان کی فروخت میں تقریباً 90 فیصد کمی آئی ہے۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہم نے کرونا کی وجہ سے ریسٹورنٹ بند کر دیا تھا تب بھی بہت نقصان ہوا۔ آج ہم پھر جاری جنگ کی وجہ سے خسارے میں ہیں۔ ہم نے ملازمین کی تعداد بھی 10 سے کم کر کے صرف 4 کر دی ہے اور آمدنی روزمرہ کے اخراجات کے لیے کافی نہیں۔

عابد عيسى
عابد عيسى

یافا سے 18 کلومیٹر دور کفر قاسم میں واقع ’ٹک ٹاک‘ ٹائر اسٹور کو بھی اپنے کاروبار کو شدید دھچکا لگا۔اس کے مالک عابد عیسیٰ کہتے ہیں کہ "ہمارے کاروبار میں تقریباً 100 فیصد کمی کے بعد مجھے ملازمین کی تعداد کم کرنا پڑی، کیونکہ یہودیوں نے ہمارے پاس آنا بند کر دیا۔ تب سے انہوں نے مجھے فون کر کے حالات کے بارے میں پوچھنا شروع کیا۔ میں نے انہیں اطمینان دلایا کہ حالات ٹھیک ہیں مگر پھر بھی اس کی دکان پر یہودی گاہک نہیں آتے۔

عیسیٰ کا کہنا ہے کہ "اگر حالات ایسے ہی رہے تو ہماری روزی روٹی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ اس ملک میں عرب اور یہودی ایک ساتھ رہتے ہیں، اور تعلقات کو برقرار رکھنا چاہیے۔ ہمارے خلاف ماحول گرم اور غلط نہیں ہونا چاہیے"۔

جد زیاد اور احمد ابو موہ
جد زیاد اور احمد ابو موہ

مغربی باقہ میں کار واش کے مالک جاد زیاد نے کہا کہ "جنگ سے پہلے میں یہودی شہروں سے لوگوں کی گاڑیاں لے جایا کرتا تھا اور انہیں اپنے گھر میں دھویا کرتا تھا۔ پھر انہیں واپس کر دیتا۔ یہ روزمرہ کا کام ہے لیکن جنگ شروع ہونے کے بعد سے صورتحال بدل گئی ہے۔ انہوں نے مجھے نہ آنے کو کہا۔ شاید اس لیے کہ میں ایک عرب ہوں اور اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ عرب دشمن ہیں، حالانکہ ہم ہم آہنگی اور امن کے ساتھ رہتے ہیں۔ہم کسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے"۔

شمالی فلسطین کے کئی دوسرے عرب باشندوں نے اپنے کاروبار کےحوالے سے ایسی ہی شکایت کی اور کہا کہ اسرائیلی یہودیوں کی جانب سے ان کا غیراعلانیہ بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں