باب المندب کے قریب دھماکوں کے بعد دو امریکی بحری جہاز پیچھے ہٹ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن سے کچھ دورسمندرمیں دو نئے سکیورٹی واقعات کا اعلان سامنے آنے کے بعد ڈنمارک کی شپنگ کمپنی میرسک نے بدھ کے روز انکشاف کیا کہ امریکی پرچم لہرانے والے دو بحری جہاز جو آبنائے باب المندب سے شمال کی طرف جا رہے تھے قریب ہی دھماکوں کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے۔

میرسک نے کہا کہ دونوں بحری جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور ان کا عملہ بھی محفوظ ہے۔ خلیج عدن میں واپسی کے دوران امریکی بحریہ ان کے ساتھ تھی۔

ڈنمارک کی کمپنی نے یہ بھی وضاحت کی کہ Maersk Line Limited کے ذریعے چلائے جانے والے بحری جہاز امریکی حکومت کے مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے سامان لے جاتے ہیں اور امریکی بحریہ کے تحفظ کے ساتھ آبنائے باب المندب کو عبور کرتے ہیں۔

دوسری جانب برطانوی میری ٹائم سکیورٹی کمپنی ایمبرے نے کہا کہ جس جہاز نے ایک ڈرون کی یمنی بندرگاہ مخا کے جنوب میں 50 میٹر کے فاصلے پر پہنچنے کی اطلاع دی ہے وہ ایک کنٹینر جہاز ہے جو امریکی پرچم لہرا رہا ہے۔

حوثیوں کے تین میزائل حملے

اس کے علاوہ ’یوایس سینٹرل کمانڈ‘ نے اعلان کیا کہ حوثیوں نے امریکی پرچم والے چلانے والے M/V مارسک ڈیٹرائٹ کنٹینر جہاز کی طرف تین اینٹی شپ بیلسٹک میزائل اس وقت فائرکیے جوخلیج عدن کو عبور کر رہا تھا۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک میزائل سمندر میں گرا، جب کہ دوسرے دو میزائلوں کو یو ایس ایس گریلی (ڈی ڈی جی 107) نے کامیابی سے نشانہ بنایا اور مار گرایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں