شام سے فوجیں واپس بلانے کی افواہیں بے بنیاد ہیں: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز شام سے امریکی افواج کے انخلا کے اپنے ارادے کے بارے میں افشا ہونے والی خبروں کی تردید کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے العربیہ اور الحدث سےفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ شام سے انخلاء کے بارے میں نہیں سوچ رہی ہے۔

"غیر ضروری مشن بند کرنے کا فیصلہ"

قبل ازیں فارن پالیسی میگزین کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ اور پینٹاگان کے ذرائع نےانکشاف کیا تھا کہ واشنگٹن شام سے اپنی افواج کو مکمل طور پر واپس بلانے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس اب شام میں امریکی مشن میں دلچسپی نہیں رکھتا، جسے وہ "غیر ضروری سمجھتا ہے"۔

امریکی انتظامیہ کے اندراس بات پر بحث جاری ہے کہ افواج کو کب اور کیسے واپس بلایا جائے، حالانکہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گذشتہ سال سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے عراق اور شام کے مسلح دھڑوں نے شامی سرزمین کے اندر بین الاقوامی اتحاد کے اڈوں پر اپنےجارحانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

90 حملے

سیریئن آبزرویٹری کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 19 اکتوبر 2023ء سے غزہ میں جنگ کے 12 دن بعد حملوں کی تعداد تقریباً 90 تک پہنچ گئی ہے۔

ان میں سے 22 صرف کونیکو گیس فیلڈ کے اڈے پر اور 21 دیر الزور میں العمر آئل فیلڈ پر کیے گئے۔ان مقامات پر سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے شامل ہیں۔

جب کہ 15 حملوں نے حسکہ دیہی علاقوں میں الشدادی اڈے کو نشانہ بنایا، اور 15 نے رمیلان میں خربہ الجیر بیس کو بھی نشانہ بنایا۔

قابل ذکر ہے کہ امریکا نے شام میں 900 فوجیوں کو تعینات کیا ہے، جو اتحادی افواج کے حصے کے طور پر شامی افواج کو مشورے اور مدد فراہم کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں