فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ سے ہمارا نکلنا ایک ناممکن ہے: حماس رہ نما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس کے رہ نما محمد نزال نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں جاری لڑائی کے باعث مذاکرات کے لیے اپنی قیمت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

نزال نے بدھ کی شام العربیہ/الحدث کو بتایا کہ "اسرائیل جنگ روکنے اور غزہ کی پٹی سے نکلنے کی ضمانت فراہم نہیں کرتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس مصر، قطر اور ترکیہ سے ضمانتیں چاہتی ہے۔ امریکا یہ تجویز دے رہا ہے۔

حماس قیادت کا غزہ سے اخراج

محمد نزال نے وضاحت کی کہ "غزہ سے حماس کے رہ نماؤں کے اخراج کا معاملہ ابھی تک سرکاری طور پر نہیں اٹھایا گیا ہے۔ غزہ کی پٹی سے ہمارا اخراج ایک ناممکن منظر ہے اور مذاکرات کا حصہ نہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ سے حماس کے رہ نماؤں کے انخلاء پر مبنی کسی بھی تجویز کو قبول نہیں کیا جائے گا‘‘۔

ہم اتھارٹی پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے

محمد نزال نے مزید کہا کہ حماس فلسطینی اتھارٹی قبضہ نہیں کرنا چاہتی۔

انہوں نے کہا کہ "اتھارٹی میں شرکت کے لیے ہمارے اقدامات کو قبول نہیں کیا گیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے "انتخابات کے انعقاد کے اقدام کو آخری لمحات میں مسترد کر دیا تھا"۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "ہمیں فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے شکریے کا پیغام موصول ہوا"۔

جب کہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "ہمیں ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کے بجائے فلسطینی قومی مفاہمت کی طرف جانا چاہیے"۔

انھوں نے انکشاف کیا کہ "حماس کی اندرون ملک اور بیرون ملک قیادت کا آپس میں اختلاف رائے موجود ہے، لیکن کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ حماس کے اندر بنیادی مسائل کے حوالے سے کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہے"۔

حماس کے ساتھ قومی مذاکرات ختم ہو چکے

دوسری جانب صدر عباس کے مشیر محمود الھباش نے کہا کہ "حماس کے ساتھ قومی مذاکرات ختم ہو چکے ہیں اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مذاکرات کے آخر میں جن باتوں پر اتفاق رائے ہوا تھا ان پرعمل درآمد کیا جائے"۔

الھباش نے العربیہ/الحدث سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ "ہم کل حماس کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں اگر فلسطینیوں کی قانونی حیثیت کا احترام کیا جائے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "حماس نے ہی قومی مذاکرات کے نتائج پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالی تھی"۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ "صدر محمود عباس نے فلسطینی انتخابات کرانے سے انکار کر دیا کیونکہ ان میں یروشلم شامل نہیں تھا"۔

انہوں نے زور دیاکہ "ہم فی الحال فلسطینی اتھارٹی میں اب جنگ بندی اور غزہ میں اپنے شہریوں کی حفاظت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں