غزہ میں امدادی سرگرمیاں بڑھانے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جنگ میں وقفہ ضروری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے اسرائیلی وزیر اعظم سے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امدادی ٹرکوں کی آمدو رفت میں اضافہ کرنے اور ان امداد لانے والے ٹرکوں کی رفتار وتعداد بڑھانے کی فوری ضرورت ہے۔ نیز غزہ میں تباہی سے دوچار ہونے والے فلسطینیوں کو امداد پہنچانے کے لیے جنگ میں فوری وقفہ ضروری ہے۔

ڈیوڈ کیمرون ان دنوں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے علاوہ فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ قطر اور برطانیہ مل کر غزہ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں قطر میں دونوں ملکوں کی طرف سے پہلی بار مشترکہ امدادی پرواز مصر جمعرات کو پہنچی ہے۔ یہ بعد ازاں غزہ کے لیے روانہ ہو گی۔

اسرائیل ان دنوں مصری صدر کے بقول رہا ہے مگر اسرائیل امدادی سامان کے روکنے کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔ تاہم مصری صدرالسیسی نے بدھ کے روز ہی یہ کہا ہے کہ اسرائیل نے امدادی سامان کی غزہ میں فراہمی میں رکاوٹیں شروع کر رکھی ہیں۔ اسی رکاوٹ کی وجہ سے مصری راہداری رفح کے راستے یومیہ طور پر بھجوائے جانے والے 600 امدادی ترک اب صرف 200 ٹرک رہ گئے ہیں۔

واضح رہے سات اکتوبر سے غزہ میں جاری جنگ کی وجہ سے اب تک 25700 سے زیادہ فلسطینی اسرائیلی بمباری کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ 62 ہزار سے زائد زخمی علاج معالجے سے محروم اور بیس لاکھ سے کہیں زیادہ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔ جن کے پاس اب غزہ میں سر چھپانے کی جگہ رہی ہے نہ کھانے اور پینے کے لیے کچھ بچا ہے۔

کیمرون نے اس صورت حال میں کہا ہے ہم غزہ کے عوام کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ہماری یہ کوششیں اسی صورت ؐمیں رنگ لا سکتی ہے کہ یہ امداد مستحق افراد تک پہنچ جائے۔
انہوں نے وزیر اعظم نیتن یاہو سے کہا ' غزہ میں مزید ٹرکوں کو داخلے کی ضرورت ہے اس لیے مزید راہداریاں کھلنا چاہییں۔ اسی طرح جنگ میں انسانی بنیادوں پر کچھ وقفہ ہونا چاہیے، نیزاسرائیلی یرغمالیوں کورہائی ملنی چاہیے جس کے بعد ایک پائیدار جنگ بندی کی جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں