فلسطین اسرائیل تنازع

فرانس نے صحت کی نگہداشت کے بحران میں سات زخمی فلسطینی بچوں کو بچا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ جنگ زدہ غزہ کی پٹی سے سات زخمی فلسطینی بچے طبی علاج کے لیے بدھ کو فرانس پہنچے۔

28 دسمبر کو دو دیگر فلسطینی بچوں کے پہنچنے کے بعد یہ یورپی ملک میں اس طرح کا دوسرا انخلاء ہے۔

تین ماہ سے زائد تباہ کن اسرائیلی بمباری اور محصور فلسطینی علاقے میں لڑائی کے بعد غزہ میں صحت کی نگہداشت کا نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے کہا، "فرانس غزہ میں انسانی صورتِ حال سے انتہائی پریشان رہتا ہے جہاں کئی ہفتوں سے خوراک، پینے کے پانی اور ادویات کی کمی نے شہری آبادی کو صحت اور خوراک کے "سنگین بحران سے دوچار کر رکھا ہے۔

"اس میں مزید کہا گیا، "ہمیں ایک دیرپا جنگ بندی کے لیے فوری طور پر کام کرنا چاہیے جو تنہا ہی غزہ کی شہری آبادی کے مصائب کو ختم کر سکتی ہے۔

غزہ میں جنگ اس وقت شروع ہوئی جب فلسطینی گروپ حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل کے خلاف غیر معمولی حملہ کیا جس کے نتیجے میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہو گئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کی حکومت کے مطابق اسرائیل کی بمباری اور زمینی کارروائیوں میں اب تک غزہ کی پٹی میں کم از کم 25,700 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے منگل کے روز علاقے میں "قحط کے بڑھتے ہوئے خطرے" سے خبردار کیا۔

ایک ڈاکٹر نے ہفتے کے آخر میں اے ایف پی کو بتایا کہ فرانس نے نومبر سے بحیرۂ روم میں فرانسیسی ہیلی کاپٹر کیریئر پر 120 مریضوں کا علاج کیا ہے۔

علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق یہ غزہ میں زخمی ہونے والے 63,700 سے زیادہ افراد کا ایک بہت چھوٹا سا حصہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں