کیا حسن روحانی کو ایرانی ماہرین کونسل کےانتخابات کےلیے نا اہل کردیا گیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران میں انتخابات کےلیے امیدواروں کی اہلیت کی جانچ، منظوری اور مسترد کیے جانے کے ذمہ دار ادارے ’گارڈین کونسل‘ نے موجودہ سیشن میں رکنیت ہونے کے باوجود سابق صدر حسن روحانی کو آئندہ مارچ میں ہونےوالے ’ماہرین کونسل‘ کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیےنا اہل قرار دیا گیا ہے۔

ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ روحانی کی سرکاری ویب سائٹ نے بدھ کو انکشاف کیا کہ 12 رکنی کونسل کے ماہرین جن میں سے 6 سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے منتخب کردہ فقہا پر مشتمل ہوں گےاور 6 پارلیمنٹ کے ذریعے منتخب کیے جائیں گے روحانی کے چھٹے سیشن میں حصہ لینے کی اہلیت پر متفق نہیں۔

روحانی ویب سائٹ نے تصدیق کردی

جہاں تک گارڈین کونسل کے باضابطہ فیصلے کا تعلق ہے تو اس کا اعلان بعد میں وزارت داخلہ کے ذریعے کیا جائے گا۔ تاہم سابق ایرانی صدرکی آفیشل ویب سائٹ نے ان کے مسترد ہونے کی خبر شائع کی ہے جس کے بعد خبر آن لائن سمیت غیرسرکاری خبر رساں اداروں نےاس خبر کو دوبارہ شائع کیا ہے۔ اس خبرنے ایرانی سیاسی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

دریں اثناء گارڈین کونسل کے ترجمان صحان نظیف نے فوری طور پر اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "ماہرین کی کونسل کے انتخابات کے امیدواروں کے نام ابھی تک وزارت داخلہ کو نہیں بتائے گئے۔ انہوں نے اس حوالے سے قیاس آرائیوں سے گریز پر زور دیا۔

یہ مسئلہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سپریم لیڈر منظور شدہ امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرنے کے باقی وقت میں گارڈین کونسل کے فیصلے کو ویٹو کر سکتا ہے۔ ایرانی دستور میں سپریم لیڈر کو مطلق اختیارات ہیں جس میں وہ کسی امیدوار کی منظوری یا اسےقبول کرنے کا حتمی مجاز ہے۔ اسی طرح کے معاملات میں سپریم لیڈر کے جاری کردہ فیصلے کو "حکومتی فیصلہ" کہا جاتا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے روحانی ماہرین کی قیادت کی کونسل کے موجودہ رکن ہیں اور سابق ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی کی تحریک کی نمائندگی کرتے ہیں جنہوں نے ایرانی حکومت کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

"روحانی نے امریکا کے ساتھ بات چیت کرکے ایران کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی"

روحانی کی ویب سائٹ پر ان کی نااہلی کے اعلان سے ایک روز قبل "نائنٹی" پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ نصر اللہ بجمان روحانی نے ان پر سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ "پچھلی حکومت میں روحانی اور ان کی حکومت کی تمام کوششوں کا مقصد ملک کے مسائل کو امریکا کے ساتھ رابطے کے ذریعے حل کرنا تھا"۔

انہوں نے دھمکی بھی دیتے ہوئے کہا کہ "وہ ان کی سیاہ کاریوں کو سامنے لائیں گے‘‘۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب روحانی نے پارلیمنٹ اور ماہرین کی اسمبلی کے انتخابات سے چند ہفتے قبل اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ "عوام کی اکثریت ان انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔"

انہوں نے اس بات پر بھی زوردیا کہ "حکمران اقلیت چاہتی ہے کہ انتخابات کم سے کم شرکت کے ساتھ ہوں اور کسی کو ووٹ نہ دیا جائے، جبکہ لوگوں کی اکثریت بھی انتخابات میں جانا نہیں چاہتی۔"

اصلاح پسندوں اور اعتدال پسندوں کا خیال ہے کہ خاموش اکثریت کی شرکت جو ان کے حق میں ووٹ دے سکتی ہے، ان انتہا پسندوں اور قدامت پسندوں میں تشویش پیدا کرتی ہے جو انتخابات میں اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے کم سے کم ممکنہ شرکت کے ساتھ انتخابات کو ترجیح دیتے ہیں۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ قانون سازی اور صدارتی انتخابات میں ایرانی جمہوریہ کے ساڑھے چار دہائیوں کے دوران ووٹ ڈالنے کے اہل افراد کی سب سے کم تعداد کی شرکت دیکھنے میں آئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں