فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کوتسلیم کرنے کی شرط پر فلسطینیوں کی خود مختاری کے حامی ہیں: بینیٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت غزہ پر حکومت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ہم جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ پر حکومت نہیں کرنا چاہتے۔ ہمارا بنیادی ہدف غزہ اور غرب اردن میں حماس کے وجود کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم فلسطینیوں پر حکمرانی نہیں کرنا چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ خود مختار ہوں، لیکن خود مختاری اسرائیل کو مٹانے کے اعلان پر نہیں بلکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط پر ہونی چاہیے۔

جب غزہ پراسرائیلی بمباری کی وجہ سے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے بارے میں پوچھے گئےسوال پر بینیٹ نے اسے حماس کو ختم کرنے کے لیے "کولیٹرل ڈیمیج" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعداد دوسری جنگ عظیم کے مقابلے میں کم ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اسرائیل تمام فلسطینیوں کو حماس سمجھتا ہے اور انہیں اجتماعی سزا دینا چاہتا ہے۔ اس پر بینیٹ نے کہا کہ 7 اکتوبر کے حملے میں بہت سے شہریوں نے حماس کی مدد کی تھی۔

اپنے استعفیٰ سے قبل بینیٹ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان ناکامیوں کے ذمہ دار ہیں جن کی وجہ سے اسرائیل پر حماس کا حملہ ہوا۔ تاہم اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو خاموش ہیں۔

ٹائمز آف اسرائیل اخبار کے مطابق انہوں نے ایک مکتوب میں اعتراف کیا کہ وہ اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے نے 12 ماہ تک وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔

محاذ جنگ سے تازہ ترین پیش رفت میں غزہ میں وزارت صحت نے آج جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 26,083 فلسطینی ہلاک اور 64,487 دیگر زخمی ہوچکے ہیں۔

وزارت صحت نے مزید کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی بمباری میں تقریباً 183 فلسطینی ہلاک اور 377 دیگر زخمی ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں