فلسطین اسرائیل تنازع

عالمی عدالت کا جنگ بندی کا فیصلہ آیا تو پاسداری کریں گے: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی گروپ حماس نے کہا ہے کہ اگر عالمی عدالت نے جنگ بندی کا حکم دیا تو اس فیصلے کی پاسداری کی جائے گی۔

غزہ میں مبینہ نسل کشی پر جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے دائر مقدمے میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف جمعے کو اپنا تاریخی فیصلہ سنانے والی ہے۔

حماس نے ایک بیان میں کہا، "اگر ہیگ میں قائم آئی سی جے جنگ بندی کا حکم جاری کرے تو حماس تحریک اس وقت تک اس کی پاسداری کرے گی جب تک کہ دشمن بھی ایسا ہی کرے۔"

جنوبی افریقہ نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل اقوامِ متحدہ کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس پر 1948 میں دنیا کے ہولوکاسٹ کے ردِعمل کے طور پر دستخط کیے گئے تھے۔

پریٹوریا چاہتا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو کنونشن کی ممکنہ خلاف ورزیوں سے بچانے کے لیے آئی سی جے نام نہاد "عارضی اقدامات" پر مبنی ہنگامی احکامات جاری کرے۔

آئی سی جے کے احکامات جو ممالک کے درمیان تنازعات پر فیصلہ دیتے ہیں، ان پر عمل کرنے کی قانوناً پابندی ہوتی ہے اور ان پر اپیل نہیں کی جا سکتی۔

البتہ عدالت کے پاس اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کا بہت کم اختیار ہے - مثلاً یوکرین پر حملہ ہونے کے ایک ماہ بعد اس نے روس کو حکم دیا کہ وہ حملہ روک دے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ خود کو آئی سی جے کے کسی حکم کا پابند محسوس نہیں کریں گے۔

انہوں نے 14 جنوری کو لبنان، شام، عراق اور یمن میں ایران کے ساتھ منسلک "محورِ مزاحمت" گروپوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "ہمیں کوئی نہیں روکے گا - نہ دی ہیگ، نہ بدی کا محور اور نہ کوئی اور"۔

گروپ نے کہا کہ اگر جنگ بندی کا حکم دیا جائے تو حماس اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے بدلے غزہ میں قید اسرائیلی قیدیوں کو بھی رہا کر دے گی۔

حماس نے غزہ کی پٹی جس پر وہ حکمرانی کرتا ہے، کی جاری اسرائیلی ناکہ بندی کو ختم کرنے اور اس علاقے میں انسانی امداد اور تعمیر ِنو کے سامان کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

جنگ اس وقت شروع ہوئی جب غزہ سے حماس اور دیگر مزاحمت کاروں نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ایک غیر معمولی حملہ کیا جس کے نتیجے میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہو گئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حملے کے دوران تقریباً 250 اسرائیلی اور غیر ملکیوں کو بھی یرغمال بنا کر غزہ پہنچا دیا گیا جن میں سے اسرائیلی حکام کے مطابق اب بھی تقریباً 132 اسیر ہیں۔

اسرائیل نے جواب میں حماس کو کچلنے کے عزم کا اظہار کیا اور ایک مسلسل فوجی کارروائی شروع کی جس میں فلسطینی علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق کم از کم 25,900 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جن میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں