ایران کو کرمان دھماکوں سے قبل آگاہ کر دیا تھا: امریکی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکہ نے ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل کو ایک بار پھر شروع کرنے پر آمادگی کا عندیہ دینے کے علاوہ بتایاہے کہ اس نے بے گناہ شہریوں کے تحفظ کی خاطر کرمان میں حالیہ دو دھماکوں سے قبل ہی ایران کو اطلاع دےدی تھی کہ 'ایران میں داعش کی طرف سے دھماکوں کا خطرہ ہے۔'

امریکی حکام نے یہ بات جمعرات کے روز بتائی ہے۔یہ دھماکے 3 جنوری ایران کے جنوبی شہر کرمان میں پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر جنرل سلیمانی کی برسی کے سلسلے میں ان کی قبر پر جمع ہونےوالوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے تھے۔ ان دو دھماکوں کے دوران ایک سو کے لگ بھگ ایرانی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

واضح رہے جنرل سلیمانی تقریبآ دو دہائیوں تک ایرانی پاسداران انقلاب کی کمان کا حصہ رہے۔ وہ بیرون ایران کارروائیوں اور ایرانی القدس فورس جنگی حکمت عملی کے ذمہ دار تھے۔انہیں امریکہ نے یکم جنوری 2020 میں عراق میں ایک حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔

امریکی ذمہ دار نے بتایا ہے کہ امریکہ کی یہ عرصے سے پالیسی ہے ہے کہ کسی بھی دہشت گردی سے سے پہلے عام شہریوں کا تحفظ کرنے کا اہتمام کرنے کی خاطر متعلقہ مملکتوں کو پیشگی آگاہ کرتاہے۔ امریکی ذمہ دار نے اپنی شناخت چھپانے کی درخواست کے ساتھ کہا یہ امریکی انتظامیہ کی دیرینہ پالیسی ہے تاکہ بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں نہ ہوں۔
یہ انتباہ 'وال سٹریٹ جرنل' نے پہلے جمعرات کو شائع کی تھی.

جان آلٹرمین مشرق وسطی کے لیے قائم تھنک ٹینک ' سی ایس آئی ایس' کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا اس بارے میں کہنا تھا کہ' امریکہ کی طرف سے اس پیشگی انتباہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ امریکی خواہش اس کے باوجود ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ گروپوں نے حال ہی میں امریکہ, اسرائیل اور دوسرے مغربی اتحادیوں کے مفادات پر حملے کئے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام کی پیش رفت کے باوجود ایسا کیا ہے۔'

انہوں نے کہا 'یہ امن کی خواہش کے پیش نظر امریکہ کی طرف سے زیتون کی ایک شاخ ہے۔'

آلٹر مین نے جوبائیڈن انتظامیہ کے حوالے سے کہا شروع سے ہی یہ انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو اہم سمجھتی ہے کہ دونوں کے مفاد میں ہے۔

خیال رہے جوبائیڈن اور ڈیموکریٹس کی طرف سے 2015 میں ایران کے ساتھ ایک جوہری معاہدہ ممکن ہوا تھا۔ تاہم بعد ازاں 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر آلٹر مین نے کہا وہ سمجھتے ہیں کہ 'جوبائیڈن انتظامیہ کے معاونین آج بھی چاہتے ہیں کہ ایران کےساتھ مذاکرات ہوں۔ وہ ہمیشہ مکالمے کی خواہش کے ساتھ رہے ہیں۔لیکن مسئلہ یہ رہا ہے کہ یہ مذاکرات کب کئے جائیں اور کن شرائط پر کئے جائیں۔'

ان کا کہنا تھا یہ ایک وقت ہے کہ سفارتی سطح پر اعتماد کو کو نئے سرے سے بحال کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں