سعودی عرب:اسٹیٹ سکیورٹی کا شعبہ عوامی رابطوں اور ریاستی اداروں کے شانہ بہ شانہ سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اگرچہ "کنگ عبدالعزیز کیمل فیسٹیول" جس کا آٹھواں ایڈیشن دسمبر 2023ء میں منعقد ہوا تھا کوئی سکیورٹی ایونٹ نہیں تھا لیکن سعودی عرب میں "پریزیڈنسی آف سٹیٹ سکیورٹی" فیسٹیول میں شرکت کرنے والے گروپوں میں شامل تھا۔ مجموعی طور پر اس فیسٹیول میں آٹھ پویلین تھے جن میں سے ایک اسٹیٹ سکیورٹی کا پویلین بھی شامل تھا۔

اسٹیٹ سکیورٹی کی طرف سے پویلین میں سکیورٹی سے متعلق نوادرات، نیز پینٹنگز جن میں مملکت کے گذرے کئی واقعات کو دستاویز کیاگیا تھا شامل تھیں۔ان کے علاوہ پلاسٹک اور ہاتھ سے بنے دست کاری کےنمونے جنہیں "جنرل انویسٹی گیشن" جیلوں میں قیدیوں نے مکمل کیا تھا اور کئی دوسری نوادرات کی نمائش کی گئی تھی۔

اس فیسٹیول میں اسٹیٹ سکیورٹی کے ترجمان کرنل ترکی الحربی نے شرکت کی جو اکتوبر 2023ء میں اس عہدے پر تعینات ہوئے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ شاہ عبدالعزیز اونٹ میلے میں اسٹیٹ سکیورٹی کی شرکت اس یقین اور پیغام کے لیے تھی مملکت میں ثقافتی اور ترقیاتی شعبوں کے تحفظ میں اسٹیٹ سکیورٹی کا ہمیشہ کلیدی کردار رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ سکیورٹی سوسائٹی کے ساتھ رابطے کےحصول، شہریوں کے لیے فراہم کردہ تحفظ اور خدمات اور انضمام میں اسٹیٹ سکیورٹی کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔

ریاستی سلامتی کے ایوان صدر میں مشیر، میجر جنرل بسام عطیہ

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاستی سلامتی پریذیڈنسی نے اپنے سرکاری ترجمان کے لیے انتخاب کیا کہ وہ سماجی ورثے کے تہوار میں شرکت کریں۔ حالانکہ یہ کوئی سکیورٹی تقریب نہیں۔ اس شرکت ایک پیغام ہے کہ معاشرے کے ساتھ تعلق نہ صرف "سکیورٹی ایونٹس" سے جڑا ہوا ہے بلکہ یہ "انٹیگریشن" کا حصہ ہے۔ اسٹیٹ سکیورٹی کا ادارہ مختلف مواقع پر عام لوگوں کے ساتھ براہ راست رابطے کے ذریعے ان کی مدد کررہا ہے۔

جنوری 2024ء اسٹیٹ سکیورٹی نے "حج و عمرہ خدمات کانفرنس اور نمائش" کے تیسرے ایڈیشن میں ایک بڑے پویلین کے ساتھ شرکت کی، جس میں 200 سے زیادہ اداروں کی وسیع پیمانے پر شرکت دیکھنے میں آئی اور 80 سے زائد ممالک کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

اس موقعے پر اسٹیٹ سکیورٹی نے اپنے پویلین کے ذریعے مقدس مقامات میں آنے والے زائرین اور بیت اللہ کے زائرین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فراہم کردہ حفاظتی صلاحیتوں کو منفرد انداز میں پیش کیا۔

اسٹیٹ سکیورٹی کے مشیر میجر جنرل بسام عطیہ نے اس حوالے سے ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ اس کے علاوہ میجر جنرل سلیم الہذلی کی طرف سے حج و عمرہ سیزن میں شریک فریقین کے ساتھ "ریاست کی سلامتی" کے شعبوں کے انضمام کے حوالے سے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔

ریاستی سلامتی پریذیڈنسی کے ترجمان کرنل ترکی الحربی کے مطابق حج سیزن میں سکیورٹی کو اب "روایتی" نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جاتا ہے، لیکن اس حوالے سے اب ہم سکیورٹی وژن 2030ء کےمطابق کام کررہے ہیں۔

ریاستی سلامتی کے ایوان صدر کے سرکاری ترجمان کرنل ترکی الحربی
ریاستی سلامتی کے ایوان صدر کے سرکاری ترجمان کرنل ترکی الحربی

کرنل الحربی کا "مملکت کے وژن 2030" کا حوالہ "اسٹیٹ سکیورٹی" کے کام کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لیے ایک اہم کلید سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ایک طرف اس کی سلامتی کو برقرار رکھنے کی کوششیں اور دوسری طرف عام لوگوں کے ساتھ بات چیت کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف وسیع اصلاحات اور ترقی کے عمل میں "وژن 2030" کے اہداف کے حصول کے لیے یہ ادارہ کام کررہا ہے۔

لہذا ہمیں معلوم ہوا ہے کہ "اسٹیٹ سکیورٹی پریذیڈنسی" "ڈیجیٹل تبدیلی 2023 ء کی پیمائش میں سعودی حکومتی اداروں کے اعلیٰ ترین نتائج" میں سے ایک ہے، کیونکہ اس نے "ڈیجیٹل تبدیلی کی پیمائش کے اشاریہ" میں 87.42 فیصد کی شرح حاصل کی ہے۔

اس ڈیجیٹل ترقی کے سفر میں اس نے کئی مقامی اداروں کے ساتھ مفاہمت اور تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے۔ مثال کے طور پر "دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مستقل کمیٹی"، "نیشنل سینٹر فار نان پرافٹ سیکٹر ڈویلپمنٹ" کے درمیان رواں جنوری اور اس سے پہلے دسمبر 2023ء میں ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔

اسٹیٹ سکیورٹی کے وژن میں بھی دو ستون ہیں۔ عوام اور قانون۔ یہ تمام اقدامات اور احتیاطی تدابیر لوگوں کی خدمت، ان کی سلامتی اور ان کی عزت و آبرو کو بچانے کے لیے اٹھائے جاتے ہیں، کیونکہ سکیورٹی کے بغیر وہ خوشحالی اور ترقی کے لیے سازگار ماحول نہیں ہو گا جس کی شہری خواہاں ہیں۔

اسٹیٹٰ سکیورٹی کے ترجمان کرنل ترکی الحربی نے ’العربیہ‘ چینل کو بتایا کہ "دہشت گردی کے جرائم سے نمٹنے اور اس کی مالی اعانت کے حوالے سے مملکت کا پہلا تجربہ ایک منفرد تجربہ ہے۔ مملکت "قانون کی بنیاد پر مقررہ اور واضح اصولوں کے مطابق" معاملہ کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں