سعودی عرب میں شماریاتی مقاصد کے لیے جرائم کی یکساں درجہ بندی کیا ہے؟

نیا اصول فوجداری نظام انصاف کے اداروں کے لیے ڈیٹا کے معیار کی سطح کو بڑھانے میں مدد گار ہوگا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جرائم کی سماجیات کے ایک محقق نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا ہے کہ شماریاتی مقاصد کے لیے جرائم کی یکساں درجہ بندی، جسے حال ہی میں سعودی کابینہ منظور کیا ہے بین الاقوامی تصورات اور اصولوں پر مبنی ہے ایک نیا طریقہ کار ہے۔ اس کا مقصد جرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے مستقل مزاجی اور موازنے کے عمل کو بہتر کرنا ہے۔ اس سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر جرائم کے اعدادوشمار کے ساتھ ساتھ مقامی اور عالمی سطح پر صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

سعودی عرب کی قصیم یونیورسٹی میں سوشیالوجی آف کرمینالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر یوسف الرمیح نے مزید کہا کہ جرائم کی متحد درجہ بندی سعودی وژن 2030ء کے معیار زندگی کے پروگرام کے تحت وزارت داخلہ کے اقدامات کا ایک پروگرام ہے۔ یہ اداروں کے ڈیٹا کے معیار کی سطح کو بلند کرتا ہے۔ فوج داری انصاف کے نظام کی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ، جرائم کا تجزیہ کرنے، ان کے اسباب کا مطالعہ کرنے، ان کے لیے موزوں ترین حل اختیار کرنے میں مدد دیتا ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ جرائم سے متعلق دستاویزی اعدادوشمار جرائم کی سطح میں ہونے والی تبدیلیوں کی پیمائش، اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کی نگرانی، اس کے بعد کی جانے والی اہم پالیسیوں کا جائزہ لینے کے علاوہ مختلف حوالوں سے جرائم کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے، ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

جرائم کی متحد قومی درجہ بندی

پچھلے دنوں میں سعودی عرب نے شماریاتی مقاصد کے لیے جرائم کی متحد قومی درجہ بندی کو اپنایا، کیونکہ کابینہ نے حال ہی میں اس کی منظوری کے بعد سعودی عرب میں تمام مجرمانہ کارروائیوں کے ناموں کو فوجداری نظام انصاف کے اداروں اور شماریاتی حکام کے درمیان یکجا کر دیا ہے۔

یہ فوجداری نظام انصاف کے اداروں کے ڈیٹا کے معیار کو بلند کرتا ہے، ان کے درمیان شماریاتی انضمام پیدا کرتا ہے اور مجاز حکام کی جرائم کے نمونوں اور رجحانات کا تجزیہ کرنے اور ان کی وجوہات کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے مناسب حل تجویز کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔

اسی حوالے سے اسٹیٹ سکیوٹی پریذیڈنسی نے اس بات کی تصدیق کی کہ دہشت گردی کے جرائم اور اس کی مالی اعانت سے نمٹنے میں مملکت کا پہلا اور دنیا کا منفرد تجربہ ہے۔

اس درجہ بندی میں تمام مملکت میں مجرمانہ نوعیت کے جرائم شامل ہیں، جبکہ اس میں لچک ہے اسے مستقبل میں قانون سازی کی پیشرفت کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔

اس کی تیاری میں متعلقہ حکام کے تمام تقاضوں اور ضروریات کو پورا کرنے، مملکت سعودی عرب میں اس کی تمام مجرمانہ کارروائیوں کی شمولیت، معروف عالمی تجربات اور طریقوں کا فائدہ، اور شماریات کے لیے جرائم کی بین الاقوامی درجہ بندی (ICCS) کے ساتھ اس کی مطابقت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں