اسرائیل کی طرف سے فیصلے کی عدم تعمیل پر عالمی عدالت انصاف کے پاس کیا اختیارات ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل اپنے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پرعمل درآمد کے پابند نہیں ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا کہ "بین الاقوامی قانون کے لیے اسرائیل کا عزم غیر متزلزل ہے۔ اسی مقدس عزم کے ساتھ ہم اپنے ملک اور اپنے لوگوں کا دفاع کرتے رہیں گے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "کسی دوسرے ملک کی طرح اسرائیل کو بھی اپنے دفاع کا موروثی حق حاصل ہے"۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ "اسرائیل کو اس بنیادی حق سے محروم کرنے کی مکروہ کوشش یہودی ریاست کے خلاف صریح امتیازی سلوک ہے جسے مسترد کیا جاتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا الزام نہ صرف جھوٹا ہے، بلکہ یہ اشتعال انگیز ہے۔ ہر جگہ کے مہذب لوگوں کو اسے مسترد کرنا چاہیے"۔

نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل نسل کشی کرنے والی دہشت گرد تنظیم حماس کے خلاف اپنا دفاع جاری رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی سہولت فراہم کرتے رہیں گے اور شہریوں کی جانیں بچانے کی پوری کوشش کریں گے، حماس شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے"۔

سام دشمنی

دریں اثنا اسرائیلی وزیربرائے قومی سلامتی ایتماربن گویرنے اسرائیل کے خلاف عارضی اقدامات کا سلسلہ جاری کرنے پر بین الاقوامی عدالت انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بین الاقوامی ادارے کو "یہود مخالف" قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ دی ہیگ میں یہود مخالف عدالت کا فیصلہ وہی ثابت کرتا ہے جو پہلے سے معلوم تھا- یہ عدالت انصاف نہیں مانگتی بلکہ یہودیوں کے ظلم و ستم کی تلاش کرتی ہے۔ وہ ہولوکاسٹ کے دوران خاموش تھے اور آج وہ منافقت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ یکے بعد دیگرے ہمارے خلاف اقدامات کررہے ہیں‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں ایسے فیصلوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے جو اسرائیل کی ریاست کے مسلسل وجود کو خطرے میں ڈالیں۔ ہمیں مکمل فتح تک دشمن کو شکست دینے کے لیے جنگ جاری رکھنا چاہیے"۔

17 ججوں پرمشتمل ICJ پینل کی ایک بھاری اکثریت نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کو روکنے کی ہدایت کے علاوہ جنوبی افریقہ کی درخواستوں میں سے زیادہ تر کو قابل سماعت قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف نے جمعہ کو کہا کہ اس کے پاس اسرائیل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے میں جنوبی افریقہ کی جانب سے درخواست کردہ ہنگامی اقدامات پر فیصلہ دینے کا اختیار ہے۔ عدالت نے کہا کہ وہ اسرائیل کی درخواست پر مقدمہ خارج نہیں کرے گی۔

کیا اسرائیل عمل کرے گا؟

اسرائیل کو اپنے قریبی اتحادی امریکا سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں، اگر اسرائیل بین الاقوامی عدالت کے فیصلوں کی تعمیل کرتا ہے یا نہیں تو اس کے کیا امکانات ہیں؟

جب کہ بین الاقوامی انصاف کے فیصلے حتمی ہوتے ہیں۔ان کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔ تاہم عدالت کے پاس اپنے فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا اختیار نہیں ہوتا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل اس کی تعمیل نہیں کرے گا۔ جنوبی افریقہ اقوام متحدہ کی سلامتی سے رجوع کر سکتا ہے۔ کونسل اس پرعمل درآمد کا مطالبہ کرسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رُکن کی حیثیت سے امریکا کے ساتھ اسرائیل کو یقین دلایا گیا ہے کہ کسی ایسے فیصلے پر اتفاق نہیں کیا جائے گا جس سے اس کے مفادات یا پالیسیوں کو نقصان پہنچے، کیونکہ یہ یقینی ہے کہ واشنگٹن سلامتی کونسل میں ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے اپنا ویٹو پاور استعمال کرے گا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قیام کے بعد سے اب تک 260 مرتبہ "ویٹو" کا استعمال کیا جا چکا ہے، جس میں امریکا نے 114 مرتبہ ویٹو پاور کا استعمال کیا۔ اس میں سے 80 بار اسرائیل کی حمایت میں سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا استعمال کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں