اسرائیل کی ناراضی کے بعد اردن میں "7 اکتوبر" ریستوران کا نام تبدیل

اردنی ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ حکومت کو اسرائیل سے باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سات اکتوبرکی تاریخ اسرائیلیوں کے لیے منحوس اور ان کے جذبات کو ٹھوس پہنچانے کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس تاریخ کا جب بھی حوالہ آتا ہے اسرائیلی اس پر چراغ پا ہو جاتے ہیں۔

اردن میں حال ہی میں ایک ریستوران کو’سات اکتوبر‘ کا نام دیا گیا تو یہ نام اسرائیلیوں کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اردنی ریستوران کے مالک پر دباؤ ڈال کر اس کا نام تبدیل کرا دیا۔

جنوبی اردن کی کرک گورنری میں "7 اکتوبر" ریسٹورنٹ کے مالک نے ریسٹورنٹ کی نام کی پلیٹ ہٹا دی۔ سات اکتوبر کے نام پراسرائیلی سخت برہم دکھائی دیے ہیں اور ان کی ناراضی کے پیش نظر ریستوران کے مالک کو ایسا کرنا پڑا۔

اسرائیل میں حزب اختلاف کے رہ نما نے سیاسی مفاہمت کی وجہ سے ریسٹورنٹ کی نام کی پلیٹ ہٹا دی۔ انہوں نے کہا کہ سات اکتوبر کی تاریخ حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کی طرف سے "طوفان الاقصیٰ‘‘۔ کے آغاز کے دن سے منسلک ہے۔

ریستوران کے نئے نام کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے، کیونکہ اس کے نام نے اردنی، عرب اور یہاں تک کہ اسرائیلی حلقوں کے درمیان وسیع پیمانے پر رد عمل جنم دیا۔

اسرائیلی غم وغصہ

سوشل میڈیا صارفین نے ریستوران کے افتتاح کے کلپس پوسٹ کیےتو اسے "7 اکتوبر" کا نام دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔

قابل ذکر ہے کہ اس ریسٹورنٹ کا نام اور اس پرعربوں کا جشن اسرائیلیوں کی برہمی کا باعث بنا۔

اسرائیلی اپوزیشن کے رہ نما یائرلپیڈ نے اس ریسٹورنٹ کو کھولنے کی مذمت کرتے ہوئے اردن کی حکومت سے اس کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا۔ لپیڈ نے "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے ایک ٹویٹ میں کہا کہ 7 اکتوبر کے شرمناک واقعات کا تکرار نہیں ہونا چاہیے۔ اردن کی حکومت اس معاملے کی عوامی اور واضح طور پر مذمت کرے"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی مانیٹرنگ کے مطابق اسرائیلی اخبار "کان" نے ریسٹورنٹ کے نام کی تصویر شائع کی۔ اس تصویر کی اشاعت کے بعد ریسٹورنٹ اور اس کے مالک کے خلاف تنقید کا ایک نیا دروازہ کھول دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں