حماس نے غزہ میں تین اسرائیلی یرغمالیوں کی ویڈیو جاری کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی مزاحمت کار گروپ حماس نے جمعے کو ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں غزہ میں 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سے تین یرغمال اسرائیلی خواتین کو دکھایا گیا ہے۔

پانچ منٹ کی ویڈیو میں نظر آنے والی دو خواتین نے کہا وہ اسرائیلی فوجی ہیں اور تیسری خاتون نے کہا وہ ایک عام شہری ہیں۔

تینوں خواتین کی شناخت اے ایف پی نے سرکاری اور کمیونٹی ذرائع سے کی ہے۔

خواتین نے کہا کہ انہیں 107 دن تک حراست میں رکھا گیا تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ویڈیو اتوار کو فلمائی گئی ہو گی۔

یہ ویڈیو اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت کے اس فیصلے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی کی کسی بھی کارروائی کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا چاہیے۔

عدالت نے 7 اکتوبر کے حملے کے دوران اغوا کردہ افراد کی "فوری اور غیر مشروط رہائی" کا مطالبہ کیا۔

7 اکتوبر کو حماس کے غیر معمولی حملے کے نتیجے میں اسرائیل میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔

مزاحمت کاروں نے تقریباً 250 یرغمالیوں کو بھی اسیر کر لیا اور اسرائیل کہتا ہے کہ ان میں سے 132 کے قریب غزہ میں بدستور موجود ہیں جن میں کم از کم 28 مردہ اسیروں کی لاشیں بھی شامل ہیں۔

حماس کی وزارتِ صحت کے مطابق کم از کم 26,083 فلسطینی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری اور زمینی کارروائیوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین، چھوٹے بچے اور نوعمر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں