داعش کی واپسی کا خدشہ،امریکا عراق سے انخلاء سے قبل کیا کرنا چاہتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکا خاص طور پر صدر جو بائیڈن کو ایک ہی وقت میں ایک سیاسی اور سکیورٹی مخمصے کا سامنا ہے۔ یہ مخمصہ "عراق" ہے۔ حالیہ ہفتوں میں امریکی انتظامیہ کے سامنے دو متضاد اہداف پیش کیےگئے ہیں۔ پہلا ہدف امریکیوں کی خواہش ہے کہ وہ عراق میں رہیں۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ بغیر کسی نقصان کے وہ وہاں سے چلے جائیں۔

4 دسمبر کا حملہ

ایران نواز ملیشیاؤں نے عراقی افواج کے ساتھ ساتھ امریکی فوجیوں کے زیر قبضہ مراکز پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی افواج نے گذشتہ 4 دسمبرکو ایک سخت حملے کا جواب دیا، جس میں ان ملیشیا کے رہ نماؤں کو ہلاک کیا تھا۔

اس پرعراقی وزیراعظم کا غصہ واضح تھا اور عراقی حکومت کا خیال تھا کہ امریکی ردعمل اپنے دفاع سے بالاتر ہے۔ حکومت نے اسے عراقی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ جبکہ امریکی افواج پر حملہ کرنے والوں پر سخت تنقید کی گئی۔

عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے باضابطہ طور پر امریکیوں سے کہا کہ وہ عراقی سرزمین سے امریکی افواج کے انخلاء کے بارے میں باضابطہ بات چیت شروع کریں۔

اس کے بعد سے فریقین نےاس پر بات چیت بھی شروع کی۔ ایران نوعاز ملیشیاؤں نے امریکیوں پر بمباری جاری رکھی۔ امریکی فوج جواب دیتی رہی۔ انہوں نے عراق میں امریکی موجودگی کے بارے میں باضابطہ بات چیت کے آغاز کا باضابطہ اعلان کرنے میں جمعرات 25 جنوری تک تاخیر مقرر کی تھی۔

جامع فوجی جواب

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ایک اہلکار نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ صدر بائیڈن کی جانب سے ایران کو براہ راست اور بالواسطہ پیغامات کے باوجود ملیشیا عراق میں امریکی تنصیبات پر شدت کے ساتھ اپنے حملے جاری رکھے۔

یہ حملے امریکیوں کے لیے حقیقی پریشانی کا باعث بنتے ہیں، کیونکہ امریکی فوجیوں کے جانی نقصان کا خدشہ امریکی حکام کو تناؤ کے دہانے پر دھکیل دیتا ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لیے کتنے پرعزم ہیں، لیکن وہ واضح طور پر یہ نہیں بتاتے کہ آیا امریکی جوابی کارروائی کی جائے گی یا نہیں۔

غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ امریکیوں نے ایران نواز عراقی ملیشیا کی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک وسیع مہم شروع کرنے کے امکان پر بات چیت کی جب محدود چھاپے حملوں کو روکنے میں ناکام رہےْ

پینٹاگان کے ایک اہلکار نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ معاملہ میز پر نہیں ہے اوریمن میں فوجی آپریشن سے ملتا جلتا نہیں ہے، جہاں امریکا اور برطانیہ حوثیوں کی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

امریکی شرائط

واضح رہے کہ اگلے مرحلے پر مذاکرات کے آغاز کا باضابطہ اعلان کرنا ایک اچھا راستہ ہوسکتا ہے۔ عراق میں زمین پر تعینات امریکی فوجیوں اور ایران کی وفادار عراقی ملیشیاؤں کے درمیان کشیدگی کا متبادل امریکی فوج کا انخلاء ہو سکتا ہے۔

یہ بہت حیران کن ہے کہ سویلین اور فوجی حکام نے جمعرات کو صحافیوں سے بات کی اور "انخلا" کی اصطلاح استعمال نہیں کی۔ جب ان سے پوچھا گیا اور اس پر غور کیا گیا کہ آنے والے مذاکرات دو طرفہ تعلقات کے بارے میں ہوں گے۔

العربیہ اور الحدث سے ملنے والی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی انخلاء کو مشروط اورعراق کے حالات سے منسلک کرکے آگےبڑھایا جائے گا۔ پینٹاگان کے ایک اہلکار نے بتایا کہ امریکی عراقی افواج کی صلاحیتوں کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ تاکہ وہ قومی سلامتی کی حفاظت، عراق کی خودمختاری کے تحفظ اور داعش کی واپسی کو روکنے کی صلاحیت کی حامل ہو۔

کردوں کی مخالفت

یہ مذاکرات میدانی دباؤ کے تحت ہوں گے، جس کی وجہ سے وہ مشکل ہو جائیں گے۔ جو چیز انہیں مزید مشکل بنائے گی وہ یہ ہے کہ عراقی کردستان کی حکومت "امریکی انخلاء نہیں چاہتی"۔

العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ صوبائی حکومت نے امریکی حکومت کو اس بارے میں مطلع کیا اور اس نے بغداد کو بھی امریکا سے انخلا روکنے پر زور دیا۔

ایک ذریعے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ "بطور کرد ہم امریکیوں کو اپنا تحفظ سمجھتے ہیں اور ان کے بغیر ہم ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہوں گے، خاص طور پر چونکہ ہم براہ راست ایرانی حملوں کے ساتھ ساتھ تہران سے منسلک ملیشیا کے حملوں کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں امریکی فوج کی عراق میں موجودگی اہم ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں