ایرانی صدر کا پاکستان کے ساتھ کشیدگی پیدا کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے ایرانی حدود کے اندر 9 پاکستانیوں کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ پاکستان کے ساتھ "تناؤ بھڑکانے" کی کوششوں کا مقابلہ کیا جائے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اور پاکستان دو برادر ممالک ہیں جن کی جڑیں گہری مذہبی، ثقافتی اور تہذیبی مشترکات ہیں جنہیں منقطع نہیں کیا جا سکتا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "ارنا" کے مطابق صدر اسلامی جمہوریہ نے بات تہران میں پاکستان کے نئے سفیر محمد مدثر ٹیپو سے ملاقات کے دوران کہی جنہوں نے ہفتے کے روز ایرانی صدر کو اپنی اسناد پیش کیں۔

ابراہیم رئیسی نے کہا کہ "تہران پاکستان کے ساتھ ہم آہنگی اور اچھی ہمسائیگی پر مبنی پالیسی پر عمل پیرا ہے کیونکہ مشترکہ سرحد دونوں ممالک کی سلامتی کو بڑھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ ان کے درمیان تجارتی تبادلے کو بڑھانے کا ایک موقع بھی ہے۔ ہمیں پاکستان کے ساتھ بدامنی پھیلانے کے بجائے امن کو فروغ دینا ہوگا‘‘۔

ایرانی صدرنے زوردیا کہ پاکستان کی سلامتی ایران کی سلامتی ہے۔

اس موقعے پر پاکستانی سفیرنے کہا کہ اسلام آباد تہران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان دشمنوں کو دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سرحد سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں"۔

ایرانی مہر نیوز ایجنسی نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ پاکستان کی سرحد کے قریب جنوب مشرقی ایران میں نامعلوم مسلح افراد نے نو غیر ملکیوں کو ہلاک کر دیا۔

نیم سرکاری ایجنسی نے کہا کہ شورش زدہ علاقے میں فائرنگ کی ذمہ داری کسی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں