بائیڈن کوعجیب مشکل درپیش،انتخابی مہم میں مسلمان اور عرب معاونین نہ مل سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر سے جاری جنگ نے امریکی صدر جو بائیڈن کی سیاست پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ امریکا کا ایک بڑا طبقہ انہیں غزہ میں چھبیس ہزار فلسطینی ہلاکتوں کے باوجود جنگ بندی کرانے میں ناکامی پر قصور وار ٹھہرا رہا ہے اور اس وجہ سے ان سے مایوس ہے۔

تاہم بائیڈن کے عزائم جنہیں 2020ء کے انتخابات کے دوران ملک کے بیشتر عربوں اور سیاہ فاموں کی حمایت حاصل تھی اس بار ایسا نہیں۔

بہت سے عرب امریکی اور مسلم ووٹروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ بائیڈن کے دوبارہ انتخاب کی کوششوں کی حمایت نہیں کریں گے کیونکہ وہ تل ابیب کے لیے ان کی مستقل حمایت اورمحصورغزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 26 ہزار سے زیادہ ہونے کے باوجود جنگ بندی میں ناکامی کی وجہ سے مسلمان اور عرب ووٹران سے مایوس ہیں۔

’سی این این‘ کے مطابق اس سے بھی بڑھ کر ڈیموکریٹک پارٹی کی کچھ حکمت عملیوں نے خبردارکیا ہے کہ امریکی صدرکو ایسے نمائندوں یا ثالثوں کو تلاش کرنے میں دشواری ہوسکتی ہے جواہم ووٹر گروپوں جیسے کہ مسلمان اورعرب امریکیوں اور بہت سے ترقی پسندوں سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں جو ان کی خارجہ پالیسی سے شدید ناراض ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ عرب اورمسلم امریکی نمائندوں کو تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے جو وائٹ ہاؤس کے حکام سے بھی ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

کئی مقامی رہ نماؤں نے بائیڈن کی انتخابی مہم کے مینیجر جولی شاویز روڈریگز سے ملاقات کی دعوتوں کو مسترد کر دیا۔ ڈیئربورن میئر عبداللہ حمود، شہر کے پہلے عرب امریکی اور مسلم میئرجو ملک کی سب سے بڑی مسلم آبادیوں میں سے ایک کی نمائندگی کرتے ہیں نے کہا کہ انہوں نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ انتخابی سیاست کا وقت نہیں ہے"۔ انہوں نے کہا کہ ضروری ہوجاتا ہے۔ پالیسی سازوں کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہیے انتخابی مہم کے عملے کے ساتھ نہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ"اگرصدر جو بائیڈن آنا چاہتے ہیں اور اپنی خارجہ پالیسی کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کے بارے میں حقیقی بات چیت کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے کے بارے میں جو فیصلے کیے ہیں، تو ہم ان سے مل سکتے ہیں اور اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں‘‘۔

دوسری جانب بائیڈن انتظامیہ کےعہدیداروں نےاس معاملے کو مسترد کردیا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ’سی این این‘ کو تصدیق کی کہ ان کے حکام نے "غزہ میں فلسطینیوں کے لیے تنازعات اورانسانی امداد کے حوالے سے مقامی اور ریاستی سطح پر رہ نماؤں کے ساتھ 100 سے زیادہ مقامات پر زیادہ بات چیت کی ہے"۔

نائب صدرکملا ہیرس کے دفترنے وضاحت کی کہ بائیڈن اوران کے نائب صدر نے غزہ کے تنازع کے بارے میں امریکا میں فلسطینی، عرب اور مسلم کمیونٹیز کو براہ راست سننے کو ترجیح دی ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں